مذاکرات کی میز پر کیا کچھ ہوا؟ حامد میر کے اندرونی کہانی سے بڑے انکشافات


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی پر سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے انتہائی اہم اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، ان کے مطابق مذاکرات کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمد سہیل آفریدی کا مؤقف بالکل واضح تھا اور وہ اس معاملے میں کسی قسم کے لچک کے خلاف نہیں تھے بشرطیکہ ان کے قائد سے رابطہ ممکن بنایا جاتا۔
اس حوالے سے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے انکشاف کیا کہ سہیل آفریدی نے مذاکرات کے دوران محسن نقوی کے سامنے بیٹھے اپنے رہنماء کو فون کرکے بتایا کہ یہ خود بار بار جا کر کبھی شہباز شریف تو کبھی زرداری صاحب کو بتا رہے ہیں، لیکن ہمیں عمران خان سے بات چیت کرنے نہیں دیتے، اگر عمران خان ڈرافٹ منظور کر لیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر بالکل درست نہیں ہے کہ سہیل آفریدی کوئی جذباتی نوجوان ہیں اور ناپختہ فیصلے کر رہے ہیں، وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اس کڑے سیاسی موڑ پر انہیں نااہل یا گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود ان پر عوام کا شدید دباؤ ہے، اگر اس نازک موقع پر بھی ہوش سے کام لیتے ہوئے سہیل آفریدی سے براہِ راست بات چیت کا سلسلہ بحال کیا جائے تو اب بھی ملک کو ایک بڑے تصادم اور انتشار سے بچانے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert