اسٹیٹ بینک کا چیک کلیئرنگ کا نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ، چیک کی ادائیگی تیز اور آسان ہوجائے گی

پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم کا پائلٹ مرحلہ 15 اکتوبر 2026 سے شروع ہوگا، ملک بھر میں مکمل نفاذ 30 اپریل 2027 تک متوقع


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بینکوں کے درمیان چیک کی جسمانی منتقلی کے روایتی طریقہ کار کی جگہ الیکٹرانک امیج پر مبنی کلیئرنگ نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت چیک کی کلیئرنگ اور رقوم کی منتقلی کا عمل تیز، محفوظ اور مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے نظام کو پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم (PECS) کا نام دیا گیا ہے، جس کا پائلٹ مرحلہ 15 اکتوبر 2026 سے شروع ہوگا، جبکہ ملک بھر میں اس نظام کا مکمل نفاذ 30 اپریل 2027 تک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت جب کوئی صارف بینک میں چیک جمع کرائے گا تو متعلقہ بینک چیک کو اسکین کرکے اس کی ڈیجیٹل تصویر اور ضروری معلومات ملک کے کلیئرنگ ہاؤس نیشنل انسٹی ٹیوشنل فسیلیٹیشن ٹیکنالوجیز (NIFT) کو ارسال کرے گا۔
این آئی ایف ٹی اس الیکٹرانک تصویر کو متعلقہ بینک تک پہنچائے گا، جہاں چیک کی اسکین شدہ تصویر اور اس سے متعلق معلومات کا جائزہ لینے کے بعد بینک چیک کی ادائیگی منظور یا مسترد کرنے کا فیصلہ کرے گا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ابتدائی مرحلے میں چیک کی اصل کاغذی دستاویز اسی بینک کی تحویل میں رہے گی جہاں اسے جمع کرایا گیا ہوگا۔ تاہم اگر متعلقہ بینک کو چیک کی اصلیت یا اسکین شدہ تصویر کی صداقت کے حوالے سے کوئی خدشات ہوں تو وہ ’’ڈیفر فار فزیکل‘‘ (Defer for Physical) کے آپشن کے ذریعے اصل چیک طلب کرسکے گا۔
مرکزی بینک نے بتایا کہ جن بینک برانچوں میں اسکیننگ کی سہولت موجود ہوگی، وہاں مخصوص اسکینرز کے ذریعے چیک کی تصاویر حاصل کی جائیں گی۔ جن برانچوں میں یہ سہولت دستیاب نہیں ہوگی، وہاں این آئی ایف ٹی چیک وصول کرکے اسے اسکین کرے گا اور متعلقہ بینک کو اس کی الیکٹرانک تصویر فراہم کرے گا۔
اسٹیٹ بینک کے شیڈول کے مطابق پائلٹ مرحلہ 15 اکتوبر سے 15 نومبر 2026 تک جاری رہے گا، جس میں منتخب بینکوں اور مالیاتی اداروں کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے بعد 16 نومبر سے 31 دسمبر 2026 تک اس نظام کو بتدریج دیگر شریک اداروں اور ان کی برانچوں تک توسیع دی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم متعارف کرانے کا بنیادی مقصد چیک کی کلیئرنگ اور رقوم کی منتقلی کے عمل کو تیز، محفوظ اور مؤثر بنانا ہے۔ اس اقدام سے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور روایتی بینکاری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔

WhatsApp
Get Alert