حکمرانوں کی پانچ دہائیوں پر محیط غلط داخلہ و خارجہ پالیسیوں نے پشتونخوا وطن کو بدترین دہشت گردی اور تباہی سے دوچار کیا: خوشحال کاکڑ
قدرتی وسائل، معدنیات اور جنگلات پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے، عوام کو ان کے حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا

موجودہ بربادی ناقابل برداشت ہو چکی، پشتون عوام کی دہائیوں کی قربانیوں کا ازالہ کرکے پائیدار امن قائم کیا جائے: جلسے سے خطاب
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پشتونخوا وطن اس وقت بدترین دہشتگردی، بدامنی اور سیاسی و معاشی بحران کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ ان کے بقول گزشتہ پانچ دہائیوں سے حکمرانوں کی غلط داخلہ و خارجہ پالیسیاں ہیں۔ ان پالیسیوں نے نہ صرف پشتونخوا وطن کے امن و استحکام کو متاثر کیا بلکہ پورے ملک کو بھی عدم استحکام، انتہاپسندی اور دہشتگردی جیسے سنگین مسائل سے دوچار کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ سے مربوط تختانی بائی پاس اول کی علاقائی کانفرنس کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور بدامنی کا خاتمہ اور ملک میں پائیدار امن کا قیام ان کی سیاسی جدوجہد کا بنیادی مقصد ہے۔ پشتون عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف بھاری قربانیاں دے رہے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ان قربانیوں کا ازالہ کرتے ہوئے پشتونخوا وطن میں مستقل امن قائم کیا جائے۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پشتونخوا وطن میں موجودہ تباہی اور بدامنی ناقابل برداشت ہے۔ جنوبی پشتونخوا جیسے علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات نے عوام میں خوف و اضطراب پیدا کیا ہے اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان حالات کا مقابلہ کسی ایک جماعت یا فرد کے لیے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے سیاسی اتحاد، قومی اتفاق رائے اور عوامی طاقت کو بروئے کار لانا ہوگا۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی و سماجی حلقوں اور عوام پر زور دیا کہ وہ بنیادی حقوق اور امن کے قیام کے لیے اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر متحد ہوں اور مشترکہ قومی محاذ تشکیل دیں۔پارٹی چیئرمین نے کہا کہ پشتونخوا وطن کے قدرتی وسائل پر مقامی عوام کا اختیار حاصل کرنا بھی ان کی جدوجہد کا اہم حصہ ہے۔ یہ خطہ معدنیات، دریاں، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن ان کے بقول مقامی آبادی کو اپنے وسائل پر وہ اختیار حاصل نہیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد پر سب سے پہلا حق ان علاقوں کے عوام کا ہونا چاہیے جہاں یہ وسائل موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا مقصد محض اقتدار کی سیاست نہیں بلکہ عوام کے قومی، سیاسی، معاشی، سماجی اور آئینی حقوق کا تحفظ ہے۔ پارٹی عوام کو منظم کرکے ان کے حقیقی مسائل کے حل، صوبائی خودمختاری، قومی برابری، جمہوریت اور سماجی انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔خوشحال خان کاکڑ نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی کو مزید مضبوط بنائیں، عوام سے رابطے بڑھائیں اور ہر علاقے میں عوامی مسائل اجاگر کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے جمہوری و سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے اور پارٹی پشتونخوا وطن کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔تنظیمی کانفرنس اور نئے عہدیداروں کا انتخابکانفرنس سے قبل بند اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں علاقائی سیکرٹری امین اللہ خان کاکڑ نے گزشتہ تنظیمی و سیاسی سرگرمیوں اور کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ مندوبین نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس کی منظوری دی۔ بعدازاں تنظیمی سرگرمیوں کو مثر بنانے کے لیے تختانی بائی پاس اول کو دو علاقائی یونٹوں میں تقسیم کیا گیا۔تختانی بائی پاس اول کے لیے امین اللہ خان کاکڑ سیکرٹری، عبدالرزاق خان درانی سینئر معاون سیکرٹری جبکہ اسداللہ خان گورگیج، عبدالحنان خان، روزی خان غلجی، احسان اللہ خان، ہدایت افغان، بخت محمد، نیک محمد، مولوی عبدالرحیم، ہارون خان الکوزئی، نصیر خان وردگ اور نجیب اللہ بڑیچ معاونین منتخب ہوئے۔ نومنتخب عہدیداروں سے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے حلف لیا۔اسی طرح تختانی بائی پاس سوم کے لیے حاجی امان اللہ خان بارکزئی سیکرٹری، ولی خان توخی سینئر معاون سیکرٹری جبکہ قدرت اللہ بڑیچ، علی محمد بارکزئی، عبدالمنان غلجی، تیمور شاہ کاکڑ، عبدالروف وطنجار، اختر جان، احمد شاہ، نزیر خان اچکزئی، سیف اللہ اور نجیب اللہ خان وردگ معاونین منتخب ہوئے۔ نومنتخب عہدیداروں سے صوبائی سیکرٹری فقیر خوشحال کاسی نے حلف لیا۔کانفرنس سے پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری پروفیسر اسد خان ترین، عبدالرزاق خان بڑیچ، علی محمد ترین اور دیگر رہنماں نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر نومنتخب علاقائی سیکرٹریوں امین اللہ خان کاکڑ اور ولی خان توخی نے پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کو پشتنی دستار پہنائی۔کانفرنس میں پارٹی کے صوبائی سیکرٹریز، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری عبیداللہ توخی، مرکزی کمیٹی کے ارکان، ضلعی معاونین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے نظارتی فرائض صوبائی آفس سیکرٹری ندا محمد سنگر اور باز پشتون نے انجام دیے۔
