خیبرپختونخواہ کے متعدد اضلاع میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں پر پابندی عائد
پشاور میں بی آر ٹی سروس معطل، اسکول کالجز بند، ریڈ زون سیل، مختلف مقامات پر کنٹینرز موجود

پشاور(قدرت روزنامہ)صوبہ خیبرپختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف اضلاع میں حفاظتی و انتظامی اقدامات کے تحت سخت نوعیت کی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پشاور میں پبلک ٹرانسپورٹ کا اہم ذریعہ سمجھی جانے والی بی آر ٹی سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے، شہر کے حساس علاقوں بالخصوص ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کرکے مختلف شاہراہوں اور چوراہوں پر کنٹینرز رکھ دیئے گئے ہیں، اس کے علاوہ پشاور اور چترال سمیت چند دیگر اضلاع میں احتیاطی تدابیر کے طور پر اسکول، کالجز اور جامعات سمیت تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے خیبر پختونخواہ کے متعدد اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ احکامات سے معلوم ہوا ہے کہ شانگلہ، بونیر، ہنگو، چترال، اپر اور لوئر دیر میں سیاسی جلسوں، جلوسوں، عوامی اجتماعات اور نفرت انگیز تقاریر پر اگلے 30 روز کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ اس دوران پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر بھی مکمل پابندی ہو گی اور اسلحے کی نمائش پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے اعلامیوں کے تحت احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی، جب کہ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تعاون کی اپیل کی ہے۔
