کے پی میں ایمرجنسی نوجوانوں کی جانیں بچانے کے لیے ناگزیر تھی، پی ٹی آئی کے متعدد افراد کالعدم ٹی ٹی پی سے ملے ہوئے ہیں: محسن نقوی کا سینیٹ میں خطاب

کمیٹی تشکیل دی جائے جو جائزہ لے کہ آئین کی کون سی شق کی خلاف ورزی ہوئی، آئین سے باہر کوئی کام نہیں کیا گیا


ہمارے فوج اور پولیس کے جوانوں کے جنازے اٹھتے تھے مگر کے پی حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوتا تھا، دہشت گرد افغانستان سے آ رہے ہیں
مذاکرات میں پی ٹی آئی کی 6 تجاویز تسلیم کیں جن کا مسودہ مراد سعید کو بھیجا جاتا تھا، وزیراعلیٰ کے پی ان سے ڈکٹیشن کیوں لے رہے تھے؟
ہمیں الزام دینے کے بجائے ان چند لوگوں کا احتساب کیا جائے جنہوں نے پارٹی اور حکومت کو اس بند گلی تک پہنچایا: وفاقی وزیر داخلہ
اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے بڑی جذباتی تقریر کی ہے، اللہ دونوں طرف والوں کا ہے، دو حکومتوں کی لڑائی میں اللہ تعالیٰ کو نہیں لانا چاہیے۔ ایک کمیٹی تشکیل دے دی جائے جو جائزہ لے کہ آئین کی کون سی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اگر آئین سے ہٹ کر کوئی اقدام کیا گیا ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے۔ یہ نہ کہا جائے کہ ہم نے آئین سے باہر کوئی کام کیا ہے، حقائق سامنے لائے جائیں اور آئینی خلاف ورزیوں کی واضح نشاندہی کی جائے۔ پارلیمنٹ میں مذاکرات ہوئے، پہلے روز کی بات چیت میں صرف دہشت گردی کے معاملے پر گفتگو ہوئی۔ اسد قیصر نے کہا کہ ہم پاکستان کے لیے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، جس پر میں نے انہیں بتایا کہ آپ کی باتوں اور خیبر پختونخوا حکومت کے مؤقف میں فرق ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا آپشن ہمارے پاس 26 نومبر کو بھی موجود تھا، لیکن ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے تک میں رات گئے فون کرکے رابطے کرتا رہا۔ پیرا فور پر اختلاف تھا، میں نے کہا کہ آپ جو چاہتے ہیں، ہم اسے بھی شامل کرلیتے ہیں۔ ہماری پولیس اور فوج کے اہلکاروں کے جنازے اٹھتے تھے اور ہم یہاں سے جنازوں میں شرکت کے لیے پہنچ جاتے تھے، لیکن خیبر پختونخوا حکومت کا کوئی نمائندہ وہاں نہیں آتا تھا۔ ہم نے دہشت گردی کو کسی دوسرے معاملے سے نہیں جوڑا، مذاکرات میں ان کی چھ تجاویز تسلیم کیں اور ان تجاویز کا مسودہ مراد سعید کو بھیجا جاتا تھا۔ ہم نے جو اقدام کیا وہ انتہائی مشکل فیصلہ تھا، لیکن نوجوانوں کی جانیں بچانے کے لیے اسے ناگزیر سمجھا گیا۔ پاکستان میں دہشت گرد افغانستان سے آرہے ہیں۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ وفاق کا فیصلہ غلط اور خیبر پختونخوا حکومت کا فیصلہ صحیح ہے۔ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے بعض افراد کے طالبان کے ساتھ براہ راست روابط ہیں اور جب کہا جائے گا تو مکمل ثبوت فراہم کردیے جائیں گے۔ ہم نے واضح طور پر کہا تھا کہ آپ کے بہت سے لوگ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مراد سعید نے تمام معاملات کو سبوتاژ نہیں کیا اور وزیراعلیٰ ان سے فیصلے کیوں لے رہے تھے؟ محسن نقوی نے کہا کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ وہ کامیاب ہوں گے اور دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔ ہم نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، ہمارا صرف اور صرف ایجنڈا دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
محسن نقوی نے 25 نومبر کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب دھاوا بولا جا رہا تھا تو ہم نے انہیں جگہ دینے کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے کہا کہ فون پر بات کرائی جائے، وہ فون پر بات کرکے دھرنا مؤخر کردیں گے۔ فون پر بات ہوئی تو پارٹی کے آدھے لوگوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔ پھر کہا گیا کہ ویڈیو پیغام ریکارڈ ہونے کے بعد ہی بات مانی جائے گی۔ ہم نے بیرسٹر گوہر کو بلایا اور کہا کہ آپ جاکر ویڈیو پیغام ریکارڈ کرلیں۔ ہم دو گھنٹے انتظار کرتے رہے، جس کے بعد انہوں نے کہا کہ پیغام ریکارڈ کریں گے، لیکن پھر کہا کہ بیرسٹر گوہر کے موبائل فون پر پیغام ریکارڈ کروائیں گے اور بعد میں یہ بھی کہا کہ سلاخوں کے پیچھے جاکر پیغام ریکارڈ کروائیں گے۔ وزیر داخلہ کے مطابق، جب وہ سلاخوں کے پیچھے گئے تو کہا کہ آج پیغام ریکارڈ نہیں کروائیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ماضی کے تجربات کے باوجود ہم نے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر مذاکرات کیے اور بات چیت کے لیے خود ان سے رابطے بھی کیے۔ ہمیں ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے ان لوگوں کا احتساب کیا جائے جنہوں نے پارٹی اور حکومت کو اس صورتحال تک پہنچایا۔ چند لوگوں نے سب کو نقصان پہنچایا، جبکہ ہم مذاکرات کے لیے اپنی طرف سے ہر ممکن حد تک گئے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاملات پر حقائق کی بنیاد پر بات کی جائے اور دیگر امور کو دہشت گردی کے بنیادی مسئلے کے ساتھ نہ ملایا جائے۔

WhatsApp
Get Alert