عدالت کے حکم پر اقرار الحسن سے فیملی کی ملاقات

کراچی (قدرت روزنامہ) کراچی عدالت کے حکم پر سربراہ عوام راج پارٹی اقرار الحسن سے ان کی فیملی کی ملاقات ہوگئی، ملاقات کے بعد اہلیہ فرح اقرار نے ان کی خیریت سے متعلق تمام تفصیلات بتا دیں۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ اقرار الحسن سے فیملی کی ملاقات کی درخواست عدالت نے منظور کر لی، جس کے بعد اہلِ خانہ نے ان سے ملاقات کی۔
فرح اقرار نے بتایا کہ اقرار الحسن خیریت سے ہیں، پُرعزم ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔
فرح اقرار نے مزید کہا کہ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کو میاں علی اشفاق نے عدالت میں چیلنج کر دیا۔ درخواست میں ریمانڈ کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا، اقرار الحسن کل صبح عدالت میں پیش ہوں گے۔
اقرار الحسن سے فیملی کی ملاقات کی درخواست عدالت نے منظور کر لی، جس کے بعد اہلِ خانہ نے ان سے ملاقات کی۔ اقرار الحسن خیریت سے ہیں، پُرعزم ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔#iqrarulhassan #releaseiqrarulhassab https://t.co/JmlxQNQzL2
— Farah Iqrar (@farah_iqrar_) October 14, 2026
مزید برآں رپورٹ کے مطابق سیشن عدالت شرقی میں عوام راج پارٹی کے سربراہ اور اینکر اقرار الحسن کے خلاف ریاست مخالف مواد کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ دینے کا حکم چیلنج کردیا گیا۔
عدالت نے درخواست پر تفتیشی افسر کو کل کے لیے نوٹس جاری کردیا۔اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق نے مجسٹریٹ کی جانب سے جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کے فیصلے کو سیشن عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کے لیے ٹھوس اور غیر معمولی وجوہات بیان نہیں کیں، حالانکہ جسمانی ریمانڈ صرف غیر معمولی حالات میں دیا جانا چاہیے۔
وکیل صفائی کے مطابق اقرار الحسن کے چار موبائل فون اور ایک ٹیبلٹ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی ای) کی تحویل میں ہیں، اس لیے ان آلات کے فرانزک تجزیے کے لیے ملزم کی جسمانی تحویل ضروری نہیں۔میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ جسمانی ریمانڈ کے بغیر بھی موبائل فونز کا فرانزک تجزیہ کیا جاسکتا ہے اور سوشل میڈیا کمپنیوں سے معلومات حاصل کرنے کا عمل جاری رکھا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان امور کی تفتیش کے لیے ملزم کو جسمانی تحویل میں رکھنا ضروری نہیں۔
