خضدار اور قلات میں خواتین کے اغوا اور قتل کے واقعات پر اسپیکر کی برہمی، متعلقہ ڈی آئی جیز کو ایف آئی آرز سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی رولنگ

صوبائی وزیر علی مدد جتک کی جانب سے اسما جتک قتل کیس کے ملزمان کی عدم گرفتاری اور لائبہ نچاری کے اغوا پر ایوان میں سخت احتجاج


ظلم پر خاموش رہے تو اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا، موجودہ بدامنی میں سرداری اور نوابی نظام کے کردار کا بھی بڑا عمل دخل ہے: علی مدد جتک
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے خضدار میں اسما جتک اور قلات میں لائبہ نچاری کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان کو رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کردی، جبکہ متعلقہ ڈی آئی جیز کو ایف آئی آرز سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی رولنگ بھی دی گئی۔
اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی اور صوبائی وزیر علی مدد جتک نے خضدار اور قلات میں پیش آنے والے واقعات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خضدار میں اسما جتک کے واقعے میں نامزد ظہور اور اس کے دو ساتھیوں کے حوالے سے بتایا جائے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، اس لیے آئی جی پولیس سے ملزمان کی موجودگی اور کارروائی سے متعلق جواب طلب کیا جائے۔ علی مدد جتک نے کہا کہ اسما جتک کے واقعے کے بعد قلات میں لائبہ نچاری کو رشتے کے معاملے پر اغوا کیے جانے کا واقعہ بھی سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا ضروری ہے اور اگر ظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جائے گی تو اللہ تعالی کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔
صوبائی وزیر نے بلوچستان میں سرداری اور نوابی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بعض سردار اور نواب افسران کو علاقوں سے نکلنے پر مجبور کرتے تھے، تاہم آج حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں موجودہ کشیدگی کی وجوہات میں سرداروں اور نوابوں کا کردار بھی شامل ہے۔ دریں اثنا اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے خضدار اور قلات میں پیش آنے والے واقعات کی رپورٹس طلب کرتے ہوئے متعلقہ ڈی آئی جیز کو ایف آئی آرز سمیت ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی، تاکہ واقعات اور پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائیوں سے متعلق اسمبلی کو آگاہ کیا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert