بارکھان میں بی ایل اے کی جانب سے دو غریب کسان بھائیوں کا اغوا کے بعد قتل بلوچ دشمنی ہے: سردار عبدالرحمن کھیتران و علی مدد جتک

کیا وہ کسان بلوچ نہیں تھے؟ کس بنیاد پر ان نہتے مزدوروں کو شہید کیا گیا؟ قومی شاہراہ این 25 پر پلیں اڑانے سے عام مسافروں کا نقصان ہو رہا ہے


یہ عناصر بلوچ نہیں بلکہ بیرونی ٹکڑوں پر پلنے والے دہشت گرد ہیں، ریاست کے ساتھ مل کر ان کا صفایا کرنا ہوگا: بلوچستان اسمبلی میں مذمت
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکنِ صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمن کھیتران اور صوبائی وزیر علی مدد جتک نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کالعدم تنظیم بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور عوام و سیاسی قیادت کو ریاست کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہونے کی اپیل کی۔
نقطہ اعتراض پر بولتے ہوئے سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ 2 روز قبل 2 غریب بھائیوں کی لاشیں پھینکی گئی ہیں، جنہیں بی ایل اے کی طرف سے اغوا کر کے قتل کیا گیا۔ انہوں نے شدید غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ “کیا یہ بلوچ نہیں تھے؟ کس بنیاد پر تم نے ان غریب برزگر (کسانوں) کو شہید کیا؟” انہوں نے مزید کہا کہ این 25 شاہراہ پر پلیں اڑانے سے قومی اور عوامی املاک کا نقصان ہو رہا ہے اور اس سے اس شاہراہ پر سفر کرنے والے عام مسافر اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔
سردار عبدالرحمن کھیتران کی بات کی تائید کرتے ہوئے اور 2 بھائیوں کی شہادت کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی وزیر علی مدد جتک نے ایوان میں کہا کہ یہ لوگ بلوچ نہیں ہیں بلکہ دہشت گرد ہیں، اور انہیں دہشت گرد ہی کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر باہر کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں اور ملک و صوبے کی سلامتی کے دشمن ہیں۔ صوبائی وزیر نے زور دے کر کہا کہ ان دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے ہم سب کو اپنی ریاست کے ساتھ کھڑا رہنا چاہیے اور ان کے خلاف مکمل متحد ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

WhatsApp
Get Alert