بلوچستان اسمبلی: آبی وسائل کے انتظام و انصرام کا قانون 2026 منظور، امن و امان پر ان کیمرہ بریفنگ کی تجویز، کورم کی نشاندہی پر اجلاس 16 اکتوبر تک ملتوی
بارکھان میں دو بھائیوں کے قتل، خضدار اور قلات میں خواتین کے خلاف جرائم، وفاق سے 11 سیکشن افسران کی واپسی اور کھاد بحران پر ارکان سراپا احتجاج

بلوچستان کے مستقل رہائشیوں کو لوکل سرٹیفکیٹ دینے کا معاملہ قرارداد کے ذریعے لایا جائے: اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، بارکھان میں دو بھائیوں کے قتل، خضدار اور قلات میں خواتین کے اغوا اور قتل کے واقعات، منشیات کے پھیلاؤ اور پولیس نفری کی کمی پر ارکان نے شدید تشویش کا اظہار کیا جبکہ اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے خضدار اور قلات کے واقعات سے متعلق رپورٹس طلب کرتے ہوئے متعلقہ ڈی آئی جیز کو ایف آئی آر سمیت ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی رولنگ دے دی۔ اجلاس میں آبی وسائل کے انتظام و انصرام کا مسودہ قانون 2026 منظور کرلیا گیا، جبکہ کورم کی نشاندہی پر اجلاس 16 اکتوبر سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
بدھ کو اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے بارکھان میں شہید ہونے والے دو کسان بھائیوں کے ایصالِ ثواب کے لیے ایوان میں فاتحہ خوانی کرائی۔ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے صوبے میں امن و امان کی مجموعی ابتر صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلانے کی تجویز دی جس پر اسپیکر نے وزیراعلیٰ سے مشاورت کا عندیہ دیا۔ رکن اسمبلی مینا مجید بلوچ اور جہانزیب مینگل نے بھی خواتین کے خلاف مظالم اور قتل و غارت گری پر سخت ردعمل دیا۔
اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر وفاق میں بلوچستان کے افسران کی نمائندگی کم ہونے، 11 سیکشن افسران کی واپسی اور زرعی کھادوں پر پابندی سے کسانوں کے مسائل کا معاملہ اٹھایا۔ زرک خان مندوخیل نے طویل عرصے سے آباد سیٹلرز کو لوکل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا جس پر اسپیکر نے اسے قرارداد کی صورت میں لانے کی ہدایت کی۔ اجلاس کے دوران کلائمٹ چینج، انوائرنمنٹ اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، کیچ ڈیلے ایکشن ڈیم اور سراخلہ ایریا کی مالی سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹس بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سپرد کر دی گئیں۔
