کھوکھلے مذاکرات اور دعوؤں سے کچھ نہیں ہوتا، بیرسٹر گوہر کا بلاول کی پیشکش پر جواب
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ہم بیٹھے پھر اس کو کس نے کہا کہ مذاکرات چھوڑ دیں؟ کن لوگوں نے آپ کو مذاکرات کی میز سے اٹھایا اور کیوں؟ چیئرمین پی ٹی آئی کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مذاکرات کی دعوت پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھوکھلے مذاکرات اور دعوؤں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا کیونکہ مذاکرات کے چکر میں ہی ہماری خیبرپختونخواہ کی حکومت ختم کر دی گئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے باضابطہ مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ بیٹھک کی تھی، لیکن پھر کس نے دوسری جانب کو مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کی ہدایت کی؟ کیا کسی بھی ڈیڈ لاک کی صورت میں بات چیت کا عمل مکمل طور پر ختم کر دیا جاتا ہے یا فریقین مذاکرات کی میز سے اٹھ جاتے ہیں؟ وہ کون سے عناصر تھے جنہوں نے حکومتی فریق کو مذاکرات کی میز سے اٹھایا اور اس کے پیچھے کیا مقاصد تھے؟۔
خیبرپختونخواہ کی موجودہ سیاسی صورتحال اور اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی ہر ممکنہ آئینی اور سیاسی فورم پر شدید مخالفت کی ہے، گورنر راج کو ناجائز اور ماورائے قانون اقدام قرار دیتے ہیں، صوبے میں ایسے حالات بالکل نہیں تھے جو ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا جواز بن سکتے، صوبے میں پوری بیوروکریسی کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر کے بعد سے پارٹی کا سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، اس کے علاوہ ان کے اراکینِ صوبائی اسمبلی اور اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی سے بھی کوئی رابطہ قائم نہیں ہو پا رہا ہے، اب ایک بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو جمہوریت کی روح کے خلاف ہے اور اس سلسلے کو فوراً بند ہونا چاہیئے۔
