کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہے: خوشحال خان کاکڑ کا قومی اسمبلی میں خطاب

پشتون عوام نے دہشت گردی کی بھاری قیمت چکائی اور دو نسلیں قربان کیں، انہیں لیکچر دینے کے بجائے ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے


بلوچستان میں وفاق سے مکمل تعاون کے باوجود کیا دہشت گردی ختم ہو گئی؟ بند کمروں کی پالیسیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے
دہشت گردی کے خلاف پالیسی سازی اسلام آباد کے بجائے متاثرہ علاقوں کے عوام، منتخب نمائندوں اور قومی جرگے کی مشاورت سے کی جائے
اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرکے ملک میں جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہے اور جمہوریت کی رہی سہی روح کو بھی مجروح کر دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف پرجوش خطاب کرتے ہوئے کیا۔
خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ آئین کو من پسند انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے، عدالتی نظام کو کمزور کیا جا رہا ہے، سیاسی اختلاف کو دبایا جا رہا ہے اور آزادیٔ اظہار پر قدغنیں عائد کی جا رہی ہیں، جبکہ انتخابات، انسانی حقوق، آئین کی بالادستی اور میرٹ جیسے بنیادی جمہوری اصول اپنی اہمیت کھوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب صوبائی حکومت کو برطرف کرکے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا جمہوری اقدار، عوامی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے سراسر منافی ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کے عدم تعاون کو جواز بنا کر منتخب حکومت کو ختم کرنا درحقیقت نہ صرف ایک سیاسی جماعت بلکہ پورے صوبے کی منتخب نمائندگی اور پشتون عوام کے حقِ حکمرانی پر وار کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پشتون عوام نے دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کی ہے، جنازے اٹھائے اور گھروں کو اجڑتے دیکھا ہے جس سے ان کی دو نسلیں متاثر ہوئیں۔ لہٰذا پشتون عوام کو اس مسئلے پر لیکچر دینے کے بجائے ان کے زمینی حقائق، تجربات اور تجاویز کو سنا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خیبر پختونخوا کی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں تھی تو پھر صوبائی اسمبلی میں کل جماعتی قومی جرگہ کیوں بلایا گیا تھا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے کو پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے۔
خوشحال خان کاکڑ نے بلوچستان کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کے عدم تعاون کو بدامنی کا سبب بتایا جا رہا ہے تو پھر بلوچستان میں صوبائی حکومت کے وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کے باوجود کیا دہشت گردی ختم ہو گئی ہے؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومتیں ختم کرنے یا گورنر راج لگانے سے دہشت گردی جیسے پیچیدہ مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ملک میں موجودہ بدامنی، غربت اور سیاسی بحران اسلام آباد اور لاہور کے حکمرانوں کی گزشتہ پانچ دہائیوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں جمہوریت، آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، تمام صوبوں کو قومی فیصلوں میں برابر کا شریک کیا جائے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بند کمروں کے بجائے متاثرہ عوام اور پارلیمان کی رہنمائی میں مستقل قومی پالیسی وضع کی جائے۔

WhatsApp
Get Alert