طلبہ تعلیم پر بھرپور توجہ دینے کے ساتھ پشتون قومی سیاسی جدوجہد میں بھی فعال کردار ادا کریں: نصراللہ خان زیرے

یونیورسٹیاں محض ڈگریوں کے مراکز نہیں، طلبہ کے پرامن و مثبت پروگراموں پر پابندیاں عائد کرنے کا رویہ قابلِ مذمت ہے


خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور 12 اضلاع کا الگ انتظامی ڈھانچہ عوامی حقوق اور قومی وحدت کے خلاف ہے
کوئٹہ یونیورسٹی میں پشتونخوا ایس او کے زیر اہتمام نئے طلبہ کے استقبال اور فارغ التحصیل طلبا کے اعزاز میں تقریب سے خطاب
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کہا ہے کہ نوجوان بالخصوص طلبہ و طالبات اپنی تعلیمی سرگرمیوں پر بھرپور توجہ دینے کے ساتھ ساتھ پشتون قومی سیاسی جدوجہد میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ علم، شعور، اتحاد اور منظم قومی سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی پشتون قوم کو درپیش مسائل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور قومی حقوق کے حصول کی جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ یونیورسٹی میں پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی علاقائی تنظیم کے زیرِ اہتمام نئے داخل ہونے والے طلبہ و طالبات کے استقبال اور فارغ التحصیل طلبہ کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کی صدارت پشتونخوا ایس او کے علاقائی سیکرٹری امین ننگیال نے کی۔ اس موقع پر پشتونخوا ایس او کے صوبائی سیکرٹری وارث افغان، پشتونخوا نیپ کے مرکزی سیکرٹری اللہ نور خان چیئرمین، صوبائی سیکرٹری اول فقیر خوشحال کاسی، یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ خان بڑیچ، زوہیب خان کبزئی اور نئے داخل ہونے والے طلبہ کے نمائندے زین اللہ خان نے بھی خطاب کیا، جبکہ نظامت کے فرائض خیراللہ لونی اور پامیر خان نے انجام دیے۔
مقررین نے نئے داخل ہونے والے طلبہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں بچوں کے بنیادی تعلیم سے محروم رہنے کے دور میں یونیورسٹی تک رسائی حاصل کرنا ایک اعزاز ہے، اس لیے طلبہ اپنے والدین کی قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے علم کے حصول کو اولین ترجیح بنائیں۔ نصراللہ خان زیرے نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کی ذمہ داریاں صرف نصابی کتابوں اور ڈگریوں تک محدود نہیں رہنی چاہئیں، بلکہ انہیں اپنے تاریخی، سیاسی اور ثقافتی حالات کا گہرا مطالعہ کرتے ہوئے مادری زبان اور قومی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔
تقریب کے دوران کوئٹہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے پروگراموں پر پابندیاں عائد کرنے اور سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ یونیورسٹیوں میں فکری تربیت، ادبی و ثقافتی مباحثوں اور جمہوری تقریبات کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول یقینی بنایا جائے۔ رہنماؤں نے ملک میں ہائبرڈ نظام، بدامنی، خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ اور 12 اضلاع کے لیے الگ انتظامی ڈھانچے کے قیام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئینی و عوامی حقوق پر شب خون قرار دیا۔
مقررین نے طلبہ کو استاد عبدالرحیم خان مندوخیل اور عثمان خان کاکڑ کی لازوال جدوجہد اور نظریات سے رہنمائی حاصل کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ پشتون قوم کا روشن مستقبل اتحاد، یکجہتی اور باشعور جمہوری جدوجہد سے وابستہ ہے۔ تقریب کے اختتام پر فارغ التحصیل اور نئے طلبہ کے لیے ضیافت کا اہتمام کیا گیا جس کے بعد موسیقی کا فنکارانہ پروگرام بھی پیش کیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert