فوج کے خلاف گفتگو میں نے کی ہے یا میاں نواز شریف نے خود کی ہے؟ مولانا فضل الرحمان
فوج کو محکمہ زراعت کس نے کہا؟ جلسے میں جنرل باجوہ کا نام کس نے لیا تھا؟ یہ محترمہ جو ہیں، انہوں نے جو اس زمانے میں فوج کے بارے میں اظہارِ رائے کیا، وہ بھی تو ریکارڈ پر لے آئیں؛ سربراہ جے یو آئی ف کی گفتگو

لاہور(قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ فوج کے خلاف گفتگو میں نے کی ہے یا میاں نواز شریف نے خود کی ہے؟ میں ریاست کا وفادار ہوں لیکن اتنی قربانیوں کے بعد جبر سے اختلاف کرتا ہوں، دہشت گردی کے خلاف متفقہ قومی پالیسی ہونی چاہیئے، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کو شامل کرنے کے لیے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق جے یو آئی ف پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن پہنچے، جہاں انہوں نے جے یو آئی ف کے مرکزی رہنما بلال میر کے بھائی زاہد میر کے انتقال پر گہرے افسوس اور دکھ کا اظہار کیا، مولانا فضل الرحمان نے بلال میر اور دیگر سوگوار اہل خانہ سے دلی تعزیت کی اور مرحوم زاہد میر کی مغفرت و بلندیِ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
مریم نواز، طلال چودھری، خواجہ آصف، عظمیٰ بخاری کی تنقید کے بعد مولانا فضل الرحمان کا لاہور سے جواب، پوچھ رہے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کے پرانے بیانات کس کھاتے میں جائیں گے ؟؟؟ ویسے یہ پریس کانفرنس قومی میڈیا پر نہیں چل رہی https://t.co/smF1wQ2ihi
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) October 17, 2026
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جب انسان دوسروں کی طرف ایک انگلی اٹھاتا ہے تو باقی پانچ انگلیاں اس کی اپنی طرف بھی ہوتی ہیں، فوج کے خلاف ماضی میں تلخ گفتگو یا بیانات میں نے خود دیئے تھے یا میاں نواز شریف نے دیئے تھے؟ مولانا نے مزید استفسار کیا کہ فوج کو ’محکمہ زراعت‘ کس نے کہا اور جلسوں میں سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کا نام مسلسل کون لیتا رہا ہے؟۔
مریم نواز کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ محترمہ میری برخوردار کی طرح ہیں، لیکن ماضی میں انہوں نے ادارے کے بارے میں جو کچھ کہا اور جو اظہارِ رائے کیا، وہ سب بھی آج ریکارڈ پر موجود ہے، یہ تمام ماضی کے باب ایسے ہیں جنہیں اب دوبارہ کریدا نہ جائے تو بہتر ہے، میں نے کبھی بھی عسکری ادارے پر تنقید نہیں کی البتہ میں ریاستی پالیسیوں کو ضرور زیرِ بحث لاتا ہوں۔
