وزیرستان کاپر لیز سے اربوں روپے کی کٹوتیاں اور کم رائلٹی کی ادائیگی کا انکشاف

وزیرستان سے کاپر نکل رہا ہے، جس کا فنکشنل لارج اسکیل لائسنس فوج کے ذیلی ادارے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، کاپر نکالنے کی مد میں رائلٹی 34.5 ارب بنتی ہے، صرف 16.9 کروڑ دئیے گئے؛ اے این پی رکن کے پی اسمبلی نثار باز خان ممبر قائمہ کمیٹی برائے مائنز اینڈ منرل


پشاور (قدرت روزنامہ) عوامی نیشنل پارٹی کے رکن خیبر پختونخواہ اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے مائنز اینڈ منرلز کے رکن نثار باز خان نے محکمہ معدنیات خیبر پختونخواہ کے ریکارڈ، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی، رائلٹی کے تنازعات اور چھوٹے لیز ہولڈرز کے خلاف مبینہ پروپیگنڈے کے حوالے سے اہم انکشافات کریئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں نثار باز خان نے بتایا کہ پچھلے دو سال سے بطور کمیٹی ممبر محکمہ معدنیات کا ریکارڈ ہمارے سامنے زیرِ بحث رہا، محکمہ معدنیات نے چار لارج اسکیل لائسنس جاری کیے جن میں سے ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، جو وزیرستان میں کاپر کی کان کنی کر رہا ہے، یہ لائسنس 2016ء میں ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کے ساتھ ایف ڈبلیو او نے جوائنٹ وینچر کے ذریعے حاصل کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ 2017ء میں پختونخوا مائنز اینڈ منرل ایکٹ بننے کے بعد اب یہی ایک لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے، اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7 ہزار 410 ایکڑ ہے جو کہ 37 عام لیزوں کے برابر ہے جبکہ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ تک دیا جاتا ہے، 2016ء سے 2024ء تک وہاں سے 9 لاکھ 87 ہزار ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں 2025ء اور 2026ء کا ریکارڈ شامل نہیں۔


انہوں نے انکشاف کیا کہ ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا، اس کی پراسیسنگ کے بعد 25 فیصد سے 30 فیصد کاپر تیار کر کے مارکیٹ میں بیچا جاتا ہے، جہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں 25 فیصد کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر، 30 فیصد کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ہے، صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب سے اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
نثار باز خان کہتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ معدنیات ایکٹ 2017ء کے قانون کے تحت 5 فیصد رائلٹی کے حساب سے یہ رقم تقریباً 34.5 ارب روپے بنتی ہے، ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے، جب کمیٹی کے اراکین نے سیکرٹری اور ڈی جی معدنیات سے اس کا حساب کتاب مانگا تو وہ خاموش ہو گئے اور کہا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے، یہ تمام باتیں کمیٹی کے ریکارڈ اور ڈاکومنٹس کا حصہ ہیں، بشرطیکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے اس دور میں محکمہ معدنیات کے ریکارڈ میں ردوبدل نہ کیا جائے۔
احتساب کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اے این پی رکن صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ صوبے کے 4 ہزار سے زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے ہے، دوسری طرف صرف اس ایک وزیرستان کاپر لیز کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دی جا رہی ہے، سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی، اقربا پروری اور کرپشن سے ان کا اختلاف ہمیشہ رہے گا لیکن ریکارڈ کو درست رکھنے کے لیے حقائق بیان کرنا ضروری ہیں تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ کی طرف سے پختونخواہ کے چھوٹے لیز ہولڈرز کے لائسنس مشکوک بنا کر ختم کرنے کی مبینہ سازش کو بے نقاب کیا جا سکے، جس کا مقصد کمپنی سرکار کے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کر کے وسائل پر قبضہ جمانا ہے۔
چھوٹے لائسنسوں کے اجراء پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2017ء میں رسالپور میں سکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا تھا جس سے شہری گھر بیٹھے درخواست دے سکتے ہیں، 2024ء میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7 ہزار درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے، اس ایشو پر نیب نے نوٹس لیا۔
اس حوالے سے نثار باز خان مزید بتابتے ہیں کہ اکتوبر 2024 میں مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کر کے زیرِ التوا لائسنس فوری حل کرنے پر زور دیا، جس کے بعد سابق ڈائریکٹر جنید خان نے قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے، ان 4 ہزار سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔
اے این پی کے رکن نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ اگر ان لیزوں میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں، لیکن پورے محکمے اور 4 ہزار لیز ہولڈرز کو ایک مخصوص جماعت سے جوڑ کر روزگار چھیننا ناانصافی ہے، پچھلے سال 2025ء میں جب گنڈا پور حکومت نے ایس آئی ایف سی کی طرف سے بھیجے گئے ڈرافٹ کو کابینہ سے منظور کرا کے منرلز ایکٹ 2017ء میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تو اے این پی کی قیادت نے جرگوں، سیمینارز اور احتجاج کے ذریعے اس بل کو واپس لینے پر مجبور کیا، احتساب ضرور ہونا چاہیے لیکن ثبوت، قانون اور حقائق کی بنیاد پر اور پختونخواہ کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert