دبئی میں پیسے لے کر ملازمین کو جعلی بیماری کی چھٹیاں دلوانے والی خاتون کو قید کی سزا

کلینک کی ملازمہ چند سو سے ایک ہزار درہم سے زائد رقم لے کر بغیر طبی معائنے کے میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرتی تھی، ڈاکٹروں کے جعلی ڈیجیٹل دستخط بھی استعمال کیے گئے، عدالت نے دیگر ملزمان کو بھی قید، جرمانے اور غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا


دبئی(قدرت روزنامہ)متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں ایک نجی کلینک کی خاتون ملازمہ کو رقم لے کر مختلف کمپنیوں کے ملازمین کیلئے بیماری کی چھٹیوں کے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے جرم میں قید کی سزا سنا دی گئی، جبکہ اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث دیگر افراد کو بھی مختلف سزائیں سنائی گئی ہیں۔
خلیجی اخبار خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دبئی کی فوجداری عدالت نے ایک مقامی کلینک میں کام کرنے والی خاتون ملازمہ کو الیکٹرانک میڈیکل سرٹیفکیٹس میں جعلسازی، اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور کمپنیوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے الزامات میں مجرم قرار دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران انکشاف ہوا کہ خاتون ملازمہ مختلف نجی کمپنیوں کے ملازمین سے رقم وصول کرکے انہیں بغیر کسی طبی معائنے کے بیماری کی چھٹیوں کے سرٹیفکیٹ جاری کرتی تھی، جن کی مدد سے ملازمین کام پر حاضر ہوئے بغیر تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں حاصل کر لیتے تھے۔
دبئی پولیس کی تحقیقات کے مطابق خاتون ملازمہ نے مختلف نجی اداروں میں کام کرنے والے افراد کے ساتھ مل کر جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔
ملزمہ ہر سرٹیفکیٹ کے بدلے چند سو درہم سے لے کر ایک ہزار درہم سے زائد رقم وصول کرتی تھی، جبکہ ان سرٹیفکیٹس کو اس انداز میں تیار کیا جاتا تھا کہ وہ بظاہر مستند طبی دستاویزات معلوم ہوں۔
جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس کا انکشاف کیسے ہوا؟
رپورٹ کے مطابق جعلسازی کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب دبئی کی ایک نجی کمپنی کی انتظامیہ نے اپنے بعض ملازمین کی جانب سے اچانک اور بار بار بیماری کی چھٹیاں لینے کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ محسوس کیا۔
کمپنی کے ہیومن ریسورسز ڈیپارٹمنٹ نے ملازمین کی جانب سے جمع کروائے گئے میڈیکل سرٹیفکیٹس کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ متعدد سرٹیفکیٹس پر ایک ہی کلینک کی ڈیجیٹل مہر موجود تھی۔
اس غیر معمولی صورتحال پر کمپنی نے اندرونی تحقیقات شروع کیں اور بعد ازاں معاملہ متعلقہ حکام کے علم میں لایا گیا۔
دبئی پولیس کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ کلینک کی خاتون ملازمہ اپنے ادارے کے الیکٹرانک ہیلتھ پورٹل تک رسائی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ملازمین کیلئے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس تیار کر رہی تھی۔
ڈاکٹروں کے جعلی ڈیجیٹل دستخط استعمال کرنے کا انکشاف
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمہ میڈیکل سرٹیفکیٹس پر سابقہ تاریخیں درج کرتی تھی تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ متعلقہ ملازم کا طبی معائنہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔
اس مقصد کیلئے کلینک کے الیکٹرانک نظام میں موجود سہولیات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹروں سے منسوب جعلی ڈیجیٹل دستخط بھی استعمال کیے جاتے تھے۔
ان دستاویزات کی بنیاد پر ملازمین اپنی کمپنیوں سے بیماری کی چھٹیاں حاصل کرتے تھے اور اس دوران انہیں تنخواہ بھی ادا کی جاتی تھی، حالانکہ ان کی بیماری یا طبی معائنے کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں ہوتا تھا۔
اس طرح کمپنیوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا تھا، جبکہ طبی سرٹیفکیٹس کے سرکاری اور ادارہ جاتی ریکارڈ کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی تھی۔
عدالت نے ملزمان کا مؤقف مسترد کر دیا
دبئی کی فوجداری عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمان کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ سرٹیفکیٹس کے اجرا میں سامنے آنے والی بے ضابطگیاں انتظامی غلطیوں یا ملازمین کے غیر مجاز اقدامات کا نتیجہ تھیں۔
تاہم عدالت نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملزمان نے جان بوجھ کر سرکاری نوعیت کے طبی ریکارڈ میں جعلسازی کی اور کلینک کے الیکٹرانک نظام کا غلط استعمال کیا۔
عدالت کے مطابق بغیر طبی معائنے کے جعلی سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا مقصد ملازمین کو ایسی تنخواہ دار چھٹیاں حاصل کرنے میں مدد دینا تھا جن کے وہ قانونی طور پر مستحق نہیں تھے۔
عدالت نے خاتون ملازمہ اور اس کے ساتھیوں کو ان کے کردار کے مطابق مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائیں، جبکہ مالی جرمانے اور نقصان کی تلافی کے احکامات بھی جاری کیے۔
فیصلے کے مطابق مقدمے میں ملوث غیر ملکی ملزمان کو قید کی سزا مکمل کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات سے ملک بدر بھی کیا جائے گا۔
تاہم رپورٹ میں ملزمان کی قومیتوں، ان کی مجموعی تعداد اور قید کی سزاؤں کی مخصوص مدت کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
متحدہ عرب امارات میں بیماری کی چھٹیوں کیلئے قانونی طریقہ کار
واضح رہے کہ دبئی میں بیماری کی چھٹیوں کے میڈیکل سرٹیفکیٹس جاری کرنے کیلئے دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے باقاعدہ قواعد و ضوابط مقرر کر رکھے ہیں۔
ان قواعد کے تحت متعلقہ لائسنس یافتہ ڈاکٹر یا دندان ساز مریض کی طبی حالت اور ضروری دستاویزات کی بنیاد پر بیماری کی چھٹی کا سرٹیفکیٹ جاری کر سکتا ہے۔
دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے الیکٹرانک نظام کے ذریعے جاری ہونے والے میڈیکل سرٹیفکیٹس کا مقصد طبی ریکارڈ کی درستگی، شفافیت اور جعلی دستاویزات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
حالیہ عدالتی فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ سرکاری یا منظور شدہ الیکٹرانک نظام کے ذریعے جاری ہونے والی دستاویزات میں بھی جان بوجھ کر جعلسازی کرنے اور انہیں مالی فائدے کیلئے استعمال کرنے والے افراد کو فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس مقدمے میں عدالت نے نہ صرف جعلی سرٹیفکیٹس تیار کرنے والی خاتون ملازمہ بلکہ اس غیر قانونی سرگرمی میں شریک دیگر افراد کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سزائیں سنائی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert