آئین کی بالادستی اور شفاف انتخابات کے سوا کوئی مطالبہ نہیں،، آدھے گھنٹے میں قانون سازی کا کون سا طریقہ ہے؟ محمود خان اچکزئی
اراکین کا دفاع اور پروڈکشن آرڈر جاری کرنا اسپیکر کا اولین فرض ہے

قومی اسمبلی میں خطاب کو سنسر کرنے پر اظہارِ برہمی، اراکین کو بولنے کی آزادی دی جائے تاکہ عوامی جذبات ایوان تک پہنچ سکیں
اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس 19اکتوبر کو خطاب کیا جسے سنسر کردیا گیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمیں لوگوں کو تنگ کرنے اور گڑ بڑ کا کوئی شوق نہیں کچھ آپ لوگ بھی خدا کا خوف کرے، یہاں طرز عمل (Conduct)کی بات کی جاتی ہے جس کے لیے ہمارے پاس رولز آف پروسیجر کی کتاب ہے جو اس کے مطابق چلے اس کا طرز عمل ٹھیک اور جو نہیں چلے گا اس کا کنڈکٹ صحیح نہیں ہے۔ آپ کسٹوڈین آف دی ہاؤس ہے میں معافی چاہتا ہوں میں وکیل نہیں ہوں لیکن اگر آپ کا ممبر قتل بھی کرلے،بدترین جرم میں ملوث ہوں وہ پارلیمنٹ کا ممبر ہے اس کا پروڈکشن آرڈر لینا اس کا دفاع کرنا آپ کا فرض بنتا ہے۔ میں بارہا گھسے پٹے الفاظ استعمال کرتا ہوں۔ 600سال پہلے انگریز حکمران کو5پارلیمنٹ کے ممبر چاہیے تھے وہ پارلیمنٹ میں گُھس آیا اور سپیکر نے اُٹھ کر اس کا احترام کیا انہوں نے کہا کہ مجھے فلاں 5آدمی چاہیے،سپیکر کے الفاظ یہ تھے کہ بادشاہ سلامت،اس پارلیمنٹ میں،میں وہ دیکھتا،سُنتا ہوں جو میرے ممبر سنتے ہیں۔ سپیکر نے انکار کیا اور کہاں کہ جو یہاں ہیں وہ میرے قابل احترام ممبرز ہیں اور انہیں یہاں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ پتہ نہیں آپ کس طرح یہ پارلیمنٹ چلارہے ہیں۔ سپیکر صاحب خدا کے لیے اس پارلیمنٹ کے کسٹوڈین کی حیثیت سے اپنے ممبران کا احترام کیجیے۔ کونسے قوانین آپ نے بنانے ہیں کیا کرینگے؟ کل سے فرانس میں لاکھوں لوگ مہنگائی کے خلاف نکلیں ہیں، فرانس کی تاریخ اور دنیا کی بہت بڑی عجوبہ روزگار ایفل ٹاور کو آگ لگادی گئی۔ برلن کے لوگوں نے بھی اعلان کردیا کہ ہم فرانس کے عوام کا ساتھ دینگے۔ آپ یہاں بیٹھ کر پتہ نہیں کونسی لوریاں سُنا رہے ہیں۔ تاریخ یہ لکھے گی۔ یہاں قوانین کہتے ہیں کہ یہاں جو ممبر جو کچھ بولے گا وہ ریکارڈ ہوگا اور اُس کا ایک لفظ بھی نہیں کاٹا جائے گا اور کوئی آدمی اسمبلی میں کیئے گئے بات پر نہ گرفتار ہوسکتا ہے اور نہ گرفتار کیا جائے گا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے جب اُس وقت آئین بنا تھا۔ 15دن بعد پارلیمنٹ کو آزادی دی وہ کچھ بھی کرسکتے تھے۔ پھر ہمیں مجبوراً سخت الفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں ہمیں بھی دُکھ ہوتا ہے۔لیکن ہم کیا کریں آپ نہ بولنے دیں۔ اگر آپ نے قوانین بنانے ہیں تو بنا دیں پھر آپ کو بھی پتہ چل جائیگا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ، صحیح جمہوری شفاف الیکشن یہ ہمارا مطالبہ ہے۔ نہ آپ سے ہمیں کوئی سکیمات چاہیے نہ کچھ۔ آج یہاں 30ممبرز بیٹھے ہیں انہیں بولنے دیں آپ کو کیا جلدی ہے۔ یہ کیسی قانون سازی ہے جو آدھے گھنٹے میں ہوتی ہے۔قوانین بنانے کا بھی اپنا طریقہ ہوتاہے۔ ہمارے ساتھیوں کو بولنے دیا جائے تاکہ وہ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرسکے۔
