میرے خاندان کے بارے میں جھوٹی بات کی تو نسلیں یاد رکھیں گی، جواد احمد کی پی ٹی آئی حامیوں کو وارننگ

میرے والدین لاہور کے کالجوں میں سیاست کے پروفیسر تھے، سیاست سے تعلق خاندانی ماحول کی وجہ سے ہے، گلوکار و سیاسی رہنما نے عمران خان سے موازنے پر مبنی تصویر بھی شیئر کر دی


لاہور (قدرت روزنامہ)معروف گلوکار اور برابری پارٹی پاکستان کے سربراہ جواد احمد نے اپنے خاندان سے متعلق سوشل میڈیا پر مبینہ جھوٹی باتیں پھیلانے والوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی بھی شخص ان کے اہل خانہ کے بارے میں غلط بات کرے گا تو وہ اسے ایسا جواب دیں گے جو اس کی آنے والی نسلوں کو بھی یاد رہے گا۔
جواد احمد کے تصدیق شدہ فیس بک اکاؤنٹ سے منسوب ایک پوسٹ کے اسکرین شاٹ کے مطابق انہوں نے اپنے والدین کے تعلیمی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد گورنمنٹ کالج لاہور جبکہ والدہ لاہور کالج فار ویمن میں پروفیسر تھیں اور دونوں سیاست کا مضمون پڑھاتے تھے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا تعلق ایسے گھرانے سے ہے جہاں سیاست اور سیاسی معاملات پر گفتگو ہوتی رہی ہے۔
پی ٹی آئی حامیوں کو جواد احمد کا سخت پیغام
جواد احمد نے اپنی پوسٹ میں تحریک انصاف کے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے خاندان کے بارے میں جھوٹی باتیں لکھنے یا بولنے سے خبردار کیا۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ان کے اہل خانہ کے بارے میں سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے والوں کو ایسا جواب دیا جائے گا جسے وہ اور ان کی آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔
گلوکار و سیاسی رہنما کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر شدید ناراض ہیں۔
عمران خان اور جواد احمد کے طرزِ زندگی کا موازنہ
جواد احمد کی پوسٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی موجود ہے جس میں ان کا سابق وزیراعظم عمران خان سے موازنہ کیا گیا ہے۔ تصویر میں جواد احمد کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ سادہ زندگی گزارتے ہیں، اپنی محنت سے کماتے ہیں اور عام لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں۔
دوسری جانب عمران خان کے بارے میں ان کی رہائش، مالی حیثیت اور طرزِ زندگی سے متعلق مختلف دعوے کیے گئے ہیں۔ تاہم تصویر میں درج انفرادی دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، اس لیے انہیں ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا جاسکتا۔

جواد احمد پہلے بھی عمران خان پر تنقید کر چکے ہیں
جواد احمد کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو شوبز سے سیاست میں آئیں۔
وہ برابری پارٹی پاکستان کے سربراہ ہیں اور طبقاتی مساوات، تعلیم اور عام شہریوں کے حقوق کو اپنی سیاست کا اہم حصہ قرار دیتے رہے ہیں۔ جولائی 2018 میں روزنامہ ڈیلی ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے ملک میں یکساں نظام تعلیم اور طبقاتی فرق کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ جواد احمد ماضی میں بھی عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاست پر تنقید کر چکے ہیں۔ اگست 2022 میں جیو نیوز نے ان کے ایسے بیانات رپورٹ کیے تھے جن میں انہوں نے سابق وزیراعظم کے سیاسی مؤقف پر سخت اعتراضات اٹھائے تھے۔ اپریل 2026 میں بھی ایک ٹیلی ویژن پروگرام سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹ میں جواد احمد نے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا انہیں مسلسل نشانہ بناتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert