سیاست میں ملوث نہ ہونے کا حلف اٹھانے والے پوری سیاست کنٹرول کررہے ہیں، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمیں کسی سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، ہمیں مشین گن سے وطن کی محبت نہ سکھائی جائے، جو لوگ سیاست میں ملوث نہ ہونے کا حلف اٹھاتے ہیں وہی پوری سیاست کو کنٹرول کررہے ہیں، جب ہم بات کرتے ہیں تو ہماری کردارکشی کی جاتی ہے، بلاوجہ اشتعال کے راستے نہ کھولے جائیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کردیا، حکومت اور فیصلہ ساز اداروں کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور اعلان کیا ہے کہ فاٹا کے انضمام اور صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے نومبر کے ابتدائی ہفتے میں ایک بڑا فاٹا جرگہ بلایا جا رہا ہے، فاٹا کے معاملے پر فاٹا کنونشن، طلباء کنونشن، اساتزہ کنونشن بلائیں گے، فیصل آباد میں ایک بڑا جلسہ بھی کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں اب تک کئی ملٹری آپریشنز ہو چکے ہیں لیکن ان کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکے، مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہی قبائلی اضلاع سابقہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کیا تھا لیکن آج وہی مسلم لیگ ن سابقہ فاٹا کے حقوق کو سلب کرکے اسے واپس مرکز کے حوالے کرچکی ہے، ہماری نظر میں یہ تمام اقدامات اور مشق صرف اور صرف صوبے کی معدنیات پر قبضہ حاصل کرنے کیلئے کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ان علاقوں میں لگائی گئی جو پہلے وفاقی کے کنٹرول میں ہوتا تھا، قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی لگائی گئی، فاٹا کو واپس وفاق کے زیرانتظام کرنے سے عوام کے دل و دماغ میں شکوک پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے کہ بد امنی ایک بہانہ ہے جب کہ صوبے کے معدنی ذخائر پر قبضہ کرنا اصل مقصد ہے، امریکی سفیر اپنے انٹرویو میں معدنیات کا تذکرہ کرچکی لیکن عالمی قوتوں کو ہمارے وسائل تک رسائی سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ ساری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کرتی ہیں لیکن یہاں صرف امریکہ ہی کیوں دلچسپی لے رہا ہے؟ باقی دنیا کی کمپنیوں کے لیے یہاں رکاوٹیں کیوں کھڑی کی جا رہی ہیں؟ جو لوگ آئین کے تحت سیاست میں ملوث نہ ہونے کا حلف اٹھاتے ہیں، بدقسمتی سے وہی اس وقت ملک کی پوری سیاست کو کنٹرول کر رہے ہیں۔
علاوہ ازیں اپنی ذاتی سکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے خدشات کا اظہار کیا کہ میری زندگی غیر محفوظ ہے، اور پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے ملک کی موجودہ صورتحال اور اپنے سیاسی مؤقف کی عکاسی کے لیے درج ذیل جذباتی اشعار بھی پڑھے؛
وہ کہہ رہے ہیں کہ محبت نہیں وطن سے مجھے
سکھا رہے ہیں محبت مشین گن سے مجھے
میں بے شعور ہوں کہتا نہیں ستم کو کرم
یہی خطاب ملا ان کے انجمن سے مجھے
