عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کی قربت کا کریڈٹ شہباز شریف حکومت کو جاتا ہے، حامد میر

جس طرح خان کو حکومت سے فراغت کے بعد مولانا کی اہمیت کا احساس ہوا، مسلم لیگ ن کو بھی حکومت سے فراغت کے بعد ہی مولانا یاد آئیں گے، لیکن اس دفعہ مولانا دوبارہ ان کے جال میں نہ پھنسیں گے؛ سینئر صحافی کا کالم


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)معروف صحافی اور کالم نگار حامد میر نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مؤقف، عمران خان کے ساتھ ان کی ممکنہ قربت اور موجودہ حکومتی فیصلوں کے اثرات پر اپنا تجزیہ پیش کیا ہے، حامد میر لکھتے ہیں کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مولانا فضل الرحمان کبھی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔
اس حوالے سے اپنے ایک کالم میں انہوں نے لکھا کہ اگرچہ ماضی میں مولانا فضل الرحمان اور عمران خان دونوں ہی افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حامی رہے ہیں، لیکن اس نظریاتی اتفاق کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان ہمیشہ شدید اعتماد کا فقدان رہا اور مولانا نے ماضی میں عمران خان کا سیاسی اتحادی بننے سے گریز کیا، تاہم موجودہ شہباز شریف حکومت کے کچھ فیصلوں اور اقدامات نے بالاخر مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کو ایک دوسرے کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔


کالم نگار کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ عمران خان کو ان کے خاندان کی تمام خواتین سمیت جیل میں قید کر رکھا ہے، اور خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے، ایسی صورتحال میں اب ظلم کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا، آج کل سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کے خلاف فرضی اور فیک ویڈیوز کی بھرمار کی جا رہی ہے اور انہیں مبینہ طور پر گرفتاری کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، مولانا اپنی سیاسی زندگی میں اب تک 11 مرتبہ گرفتار ہوچکے، اب بارہویں گرفتاری کے لیے بھی مکمل تیار ہیں۔
حامد میر کا تجزیہ ہے کہ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا اصل کریڈٹ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کو جاتا ہے، جس طرح اقتدار سے فراغت کے بعد عمران خان کو مولانا فضل الرحمان کی سیاسی اہمیت کا احساس ہوا تھا بالکل اسی طرح مستقبل میں مسلم لیگ ن کو بھی حکومت سے نکلنے کے بعد ہی مولانا کی اہمیت یاد آئے گی لیکن اس بار مولانا فضل الرحمان دوبارہ ان کے سیاسی جال میں نہیں پھنسیں گے۔
کالم میں یاد دلایا گیا کہ حکومت سے نکلنے کے بعد عمران خان نے مولانا سے اتحاد کی بہت کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے، اور دوسری طرف اس وقت کے خفیہ ادارے کے سربراہ نے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو مولانا سے دور کردیا تھا، یہ وہی مولانا فضل الرحمان ہیں جنہوں نے 2010ء میں لاہور کے جامعہ اشرفیہ میں ملک بھر کے جید علماء کو دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ اعلامیے پر راضی کیا تھا۔
سینئر صحافی نے لکھا کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف اس تاریخی اعلامیے کے جاری ہونے کے بعد صوابی، چارسدہ اور کوئٹہ میں مولانا فضل الرحمان پر اوپر تلے خودکش حملے بھی ہوئے لیکن اتنے بڑے خطرات کے باوجود مولانا نے کبھی قومی سیاست میں عسکریت پسندی کے خلاف اپنے واضح مؤقف پر سمجھوتہ نہیں کیا، آج بدقسمتی سے اسی مولانا کو بعض حلقوں کی طرف سے دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیا جانے لگا ہے۔

WhatsApp
Get Alert