امیرِ قطر کا ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ، ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے پر زور

قطر (قدرتروزنامہ)قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے، سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
قطری امیری دیوان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعے کو ہونے والی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورت حال اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات اور انہیں مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر بھی بات چیت کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ گفتگو کے دوران بین الاقوامی سطح پر جاری سفارتی کوششوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں قطر کی جانب سے مذاکرات میں معاونت اور بحران کے حل کے لیے ثالثی کا کردار شامل ہے۔
قطری امیر نے اس موقع پر زور دیا کہ خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارتی اقدامات جاری رکھنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ صورتِ حال مزید خراب ہونے سے بچائی جا سکے۔
شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے بحری راستوں میں آزادانہ آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔
قطری امیری دیوان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ بحران کے خاتمے کے لیے ایسی جامع مفاہمت کی ضرورت ہے جو تمام متعلقہ معاملات کا حل فراہم کرسکے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے قطر اور پاکستان مشترکہ طور پر ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔
یہ جنگ فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
قطر اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانا اور ایسا جامع معاہدہ طے کرانے میں مدد دینا ہے جس کے ذریعے جنگ کا خاتمہ اور خطے میں امن و استحکام بحال کیا جا سکے۔
