ریاض اور مدینہ کی فضائی حدود میں 4 ڈرونز تباہ کر دیے، سعودی فوجی اتحاد

سعودی عرب (قدرت روزنامہ)یمن میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ فوجی اتحاد نے جمعرات کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں 5 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب یمن کے حوثی گروہ (انصاراللہ) نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں وزارتِ دفاع کی عمارت، ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات اور دو بین الاقوامی ایئرپورٹس کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔

سعودی عرب میں آج نیوز کے نمائندے ذکاءاللہ محسن کے مطابق سعودی حمایت یافتہ فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو بتایا کہ ریاض اور مدینہ منورہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 4 ڈرونز کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔

میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق جمعرات کی صبح سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں بھی 4 ڈرونز مار گرانے گئے تھے۔

سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جمعرات کو دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی آپریشنز کی بحالی کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق بدھ کی شام کنگ فہد ایئرپورٹ پر حملے میں ایک سعودی اور بھارتی شہری جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔

سعودی حکام نے اس حملے میں 8 افراد کے زخمی ہونے کا بھی دعویٰ کیا تھا جس میں بھارت، یمن اور بنگلا دیش کے دو، دو جب کہ سعودی عرب اور نیپال کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔

اس سے قبل سعودی وزارتِ توانائی نے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کے دوران 2 افراد کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

بیان کے مطابق سعودی آرامکو کے شَیبہ آئل فیلڈ میں واقع ریفائنری کی جانب آنے والے ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم اس ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ان دونوں افراد میں سے ایک کی شہریت فلپائنی جب کہ دوسرے کا تعلق نیپال سے بتایا گیا ہے۔ اسی حملے میں زخمی دو افراد میں پاکستان اور بھارت کے باشندے بھی شامل تھے۔

سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے آئل فیلڈ میں کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ تنصیب کی حدود سے باہر پیش آیا اور اس واقعے کے باوجود شَیبہ آئل فیلڈ کے آپریشنز متاثر نہیں ہوئے۔

دوسری جانب حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں سعودی عرب پر تازہ حملوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

حوثیوں کی جانب سے جاری بیان میں ان کارروائیوں کو سعودی عرب کی مبینہ فوجی کارروائیوں کا جوابی اقدام قرار دیا گیا ہے۔

یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ کہ اگر یمنی قبائل کو نشانہ بنایا گیا تو سعودی عرب کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ یمن پر حملے بند اور ملک کا محاصرہ ختم نہ کرنے تک وہ ’محاصرے کے جواب میں محاصرہ اور حملوں کے جواب میں حملے‘ کی حکمتِ عملی جاری رکھیں گے۔

WhatsApp
Get Alert