گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی، فتنہ الہندوستان کے حملے کی کوشش ناکام، 3 دہشت گرد ہلاک
متعدد دہشت گرد فورسز کے گھیرے میں، جی او سی گوادر خود آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں، سیکیورٹی ذرائع

پاک ایران سرحد اور جیونی میں بھی حملے، این ایل سی کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا، سیکیورٹی انتہائی ہائی الرٹ
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گوادر میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر حملہ کرنے کی بزدلانہ کوشش کو سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کامیاب جوابی کارروائی کے دوران فورسز نے 3 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے، جبکہ مزید 3 دہشت گردوں کو بھی سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔علاوہ ازیں، ایک اور حملے کی کوشش کے پیش نظر گوادر شاہراہ کے قریب واقع ایک ہوٹل میں موجود دہشت گردوں کے خلاف بھی آپریشن جاری ہے جہاں چار مزید دہشت گرد فورسز کے گھیرا میں ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گوادر جی او سی (GOC) خود اس تمام آپریشن کو لیڈ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب خبر رساں ادارے یو این اے کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کی شام پاک-ایران سرحد اور گوادر کے ساحلی علاقوں میں نامعلوم مسلح افراد نے دو مختلف مقامات پر شدید حملے کیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاک-ایران سرحد پر واقع بارڈر نمبر 250 پر نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) کے قائم مقام پر مسلح افراد نے حملہ کر کے وہاں کھڑی متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔اسی وقت، جیونی زیرو پوائنٹ پر سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کو بھی بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے دوران ہونے والے شدید دھماکوں کی آواز سے پورا گوادر شہر گونج اٹھا، جبکہ دھماکوں کے اثر سے جی ڈی اے (GDA) ہسپتال کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ خبراں کے مطابق شام گئے تک علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سیکیورٹی انتہائی ہائی الرٹ کر دی ہے۔ حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان اور ہلاکتوں یا زخمیوں کی فی الحال کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ حکام کی جانب سے مزید تفصیلات جاری کی جانا باقی ہیں۔
