میں عظمیٰ بخاری کے اس بیان کو مستردکرتی ہوں کہ میرے ٹویٹ سے وزیراعلیٰ یا پنجاب حکومت کو کوئی شرمندگی اٹھانا پڑی، حنا پرویزبٹ

لاہور (قدرت روزنامہ) مسلم لیگ ن کی رہنماء ، چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں عظمیٰ بخاری کے اس بیان کو مستردکرتی ہوں کہ میرے ٹویٹ سے وزیراعلیٰ یا پنجاب حکومت کوکوئی شرمندگی اٹھانا پڑی،میری کبھی کسی بات سے وزیراعلیٰ کو کبھی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
ایکس پر انہو ں نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ یہ ایک ایسی ٹویٹ تھی جیسے ایک عام شہری محسوس کرتا ہے اور اظہار رائے کرتا ہے، اس ٹویٹ میں نہ میں نے وزیراعلیٰ اور نہ ہی پنجاب حکومت پر کوئی الزام عائد کیا، اور نہ ہی کسی ادارے کے اوپر کوئی بات کی۔ لہذا میرے ٹویٹ پر تنقید کرنا بے جا ہے۔
میری کولیگ عظمیٰ بخاری کا یہ کہنا کہ میری ٹویٹ سے حکومت کو کوئی شرمندگی اٹھانا پڑی یا ان کو خود کوئی شرمندگی ہوئی، تو میں بڑے احترام کے ساتھ اس کو مسترد کرتی ہوں۔
میری کبھی کسی بات یا کسی ایکشن سے وزیراعلیٰ پنجاب یا پنجاب حکومت کو کبھی کوئی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
وضاحتی بیان: میں نے یہ ٹویٹ کہ ’’یہ مریم نواز صاحبہ کی حکومت ہے، یہاں فوری انصاف ملتا ہے‘‘ اپنی ذاتی رائے کے طور پر کیا تھا۔ یہ نہ حکومت کے خلاف کوئی چارج شیٹ تھی اور نہ کسی ادارے پر تنقید۔ میرے خیال میں اس پر ہونے والی تنقید غیر ضروری ہے۔
میں اپنی کولیگ عظمیٰ بخاری کا احترام کرتی ہوں۔ بطور وزیر اطلاعات حکومت کی پالیسی واضح کرنا اور اس کا دفاع کرنا ان کی ذمہ داری ہے، لیکن میرے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دی گئی رائے کو ناسمجھی قرار دینا یا اس سے حکومت کی شرمندگی جوڑنا غیر ضروری تھا۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ میری رائے سے حکومت کو شرمندگی ہوئی۔— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) October 22, 2026
حنا پرویز بٹ نے کہا کہ اگر عظمیٰ بخاری خود کوئی شرمندگی محسوس کررہی ہیں تو وہ ان کی اپنی چوائس ہے۔ عظمیٰ بخاری حکومت کی آفیشل ترجمان ہیں، اس لئے انہوں نے حکومت کی پالیسی کی وضاحت کی، یہ اچھی بات ہے لیکن ان کے میرے بارے میں ریمارکس غیرضروری اور نامناسب ہیں۔
حنا پرویز بٹ نے کہا کہ کراچی ایزل ، ملتان کے وسیم ، اسلام آباد کی لائبہ ، سرگودھا کی منتہا، اور ایبٹ آباد کی ایمان ان کے والدین کو ٹی وی شو میں بلائیں اور پوچھیں کہ ان کے بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیئے؟ جو لوگ مجرمان کا دفاع کررہے ہیں وہ ان کی فیملی کو نہیں ملتے جن کے بچوں بچیوں کے جسم بری حالت میں ملتے ہیں، میں ایسے والدین کو ملتی ہوں۔
سوچیں ان بچوں کے والدین پر کیا گزری ہوگی؟
یاد رہے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ کی جانب سے ملتان میں کمسن بچے کی ہلاکت کے مقدمے کے ملزم کی پولیس مقابلے میں موت کو فوری انصاف قرار دینے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حنا پرویز بٹ کی سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے نہ صرف وہ خود بلکہ حکومت کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری سے حنا پرویز بٹ کی اس پوسٹ کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں انہوں نے ملزم کی ہلاکت کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت میں فوری انصاف قرار دیا تھا۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ حنا پرویز بٹ کی پوسٹس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرنا چاہتیں، تاہم ان کے بیانات کی وجہ سے حکومت کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے کے مقدمے کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ یہ مریم نواز کی حکومت ہے جہاں فوری انصاف ملتا ہے۔
ان کے اس بیان پر صحافیوں، وکلا اور سوشل میڈیا صارفین نے سخت اعتراض کیا اور سوال اٹھایا کہ کسی ملزم کو عدالتی کارروائی اور سزا کے بغیر پولیس مقابلے میں ہلاک کیے جانے کو انصاف کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ تنقید بڑھنے کے بعد حنا پرویز بٹ نے اپنی متعلقہ پوسٹ حذف کردی تھی۔
