استنبول میں پاکستان سمیت 7 ممالک کی اہم سفارتی بیٹھک، اسحاق ڈار شرکت کریں گے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار آج (23 اکتوبر کو) ترکیہ کے شہر استنبول میں آر 4 (پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرینگے۔
جمعہ کو وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے دورے کی دعوت دی ہے۔

آر 4 (پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد آر 4 پلس ای 3 وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں ای 3 ممالک (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) بھی شرکت کریں گے، یہ ساتوں ممالک کے درمیان اس فارمیٹ میں پہلا اجلاس ہوگا۔

ان اجلاسوں میں اہم علاقائی پیش رفت پر توجہ دی جائے گی اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اورعلاقائی امن و استحکام کو آگے بڑھانے کے لیے مربوط سفارتی حکمت عملیوں پر غور کیا جائے گا۔

دورے کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، اجلاس میں پاکستان کی شرکت تعمیری سفارت کاری، علاقائی تعاون اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک ترک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ ترکیہ کی پہل پر ساتوں ممالک پہلی مرتبہ آر فور پلس ای تھری فارمیٹ میں اجلاس کریں گے۔ ایران، یمن اور یوکرین سے متعلق جنگوں کے باعث بحری راستوں اور علاقائی سلامتی کو لاحق خطرات کے تناظر میں یہ ملاقات اہم قرار دی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسرائیل فلسطین تنازع، آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال، یمن کی صورت حال، روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں اور علاقائی و یورپی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیے جانے کا امکان ہے۔ وہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت کی آزادی کی اہمیت بھی اجاگر کریں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق حاقان فیدان یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ترکیہ کی حمایت کا اعادہ بھی کریں گے۔ یہ حمایت اسلام آباد، انقرہ اور ریاض کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں سامنے آئے گی۔

ترک وزیر خارجہ یوکرین جنگ کو بحیرہ اسود تک پھیلنے سے روکنے کے لیے ترکیہ کی کوششوں سے بھی اپنے ہم منصبوں کو آگاہ کریں گے اور اس تنازع کے باعث علاقائی سلامتی کو لاحق خطرات کی نشاندہی کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert