بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے سرکاری ملازمین کی تفصیلات ایوان میں پیش

8 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کی ادائیگیاں روک دی گئیں، 71 کروڑ 24 لاکھ روپے کی رقم ریکور کرلی گئی، 22 لاکھ 59 ہزار 404 ناہل افراد بے نظیر کفالت پروگرام سے خارج


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پارلیمنٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر مستفید ہونے والے سرکاری ملازمین کی تفصیلی رپورٹ پیش کر دی گئی، جس کے مطابق وفاقی کابینہ کے 2019ء کے فیصلے کی روشنی میں سرکاری ملازمین اور ان کی شریک حیات کو ادائیگیاں مکمل طور پر بند کردی گئی ہیں اور 8 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کی ادائیگیاں روک دی گئی ہیں۔
ایوان میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ سال 2019ء سے 2020ء کے دوران کی گئی آڈٹ رپورٹ میں 1 لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین اور ان کے شوہروں یا بیویوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو اس فلاحی پروگرام سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے تھے۔


رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بی آئی ایس پی کی رقوم غیر قانونی طریقے سے وصول کرنے والے ان ملازمین سے اب تک مجموعی طور پر71 کروڑ 24 لاکھ روپے کی بڑی رقم وصول کی جا چکی ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ذریعے مختلف سرکاری ملازمین سے 54 کروڑ 57 لاکھ روپے وصول کیے گئے، اس کے علاوہ خود بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اپنے ملوث ملازمین سے 2 کروڑ 15 لاکھ روپے کی وصولی کی گئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ ملک کے دیگر مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین سے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے وصول کیے جا چکے ہیں، شفافیت کو یقینی بنانے اور مستحق افراد تک امداد پہنچانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جس کے تحت یکم جولائی 2025ء سے لے کر 30 جون 2026ء کے دوران کل 22 لاکھ 59 ہزار 404 ناہل افراد اور مستفیدین کو بے نظیر کفالت پروگرام سے خارج کر دیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert