پی ٹی آئی کی فیصلہ سازی کا اختیار پارلیمانی پارٹی کو منتقل کرنے کی خبریں، بیرسٹر گوہر کی تردید

کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبروں کو من گھڑت قرار دے دیا، فیصلوں کا حتمی اختیار عمران خان کے پاس ہے، انہوں نے ہی متعلقہ کمیٹیوں کو اختیارات دیئے ہوئے ہیں؛ پارٹی چیئرمین کا بیان


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے ان خبروں اور اطلاعات پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کیا، ہے اور انہیں من گھڑت قرار دے دیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ پارٹی کی فیصلہ سازی کے عمل سے کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مکمل طور پر مائنس یا نذر انداز کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں بیرسٹر گوہر نے ان اطلاعات کی سخت الفاظ میں تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کمیٹیوں کو معطل یا مائنس کرنے کے حوالے سے کوئی بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا، اور پارٹی میں فیصلے بدستور کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کی مشاورت سے ہی ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کو مائنس کرنے یا صرف اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر منحصر رہنے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی الگ الگ باڈیز ہیں جن کا اپنا دائرہ اختیار ہے، تجاویز کو پارلیمانی پارٹی کے سامنے رکھا جاتا ہے جو پارلیمانی معاملات طے کرتی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے دہرایا کہ پارٹی میں حتمی فیصلے کا مطلق اختیار صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پاس ہے اور انہوں نے ہی تمام کمیٹیوں کو اختیارات تفویض کیے ہیں، لہذا خیبرپختونخواہ کی قیادت کے پلان بی یا سی اور بانی پی ٹی آئی تک رسائی و رہائی سے متعلق فیصلے اپنی جگہ طے شدہ طریقوں سے کیے جائیں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرستر گوہر کا یہ بیان ان خبروں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے فیصلوں کا مرکزی اختیار کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی سے لے کر باقاعدہ طور پر اپنی پارلیمانی پارٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو عملی طور پر فیصلہ سازی کے عمل سے مائنس یا غیر فعال کر دیا گیا۔
ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئی سیاسی حکمتِ عملی کے تحت تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا بلاک بھی غیر مؤثر ہو جائے گا اور آئندہ کے تمام سیاسی و پارلیمانی مشورے صرف اپوزیشن لیڈرز تک محدود رہیں گے، اس نئے فریم ورک کے تحت پارلیمانی پارٹی کی سربراہی اپوزیشن لیڈرز محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کریں گے جو تمام اہم فیصلوں میں مرکزی اور متحرک کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی کہا جارہا تھا کہ اس نئی پیش رفت کے ساتھ ہی خیبر پختونخواہ کی مقامی قیادت کے طے شدہ پلان بی اور پلان سی کا مزید انتظار نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان تک فوری رسائی، اسیر خواتین رہنماؤں کی جلد رہائی اور بانی چیئرمین کے طبی معالجے و علاج معالجے سے متعلق اہم اور حتمی فیصلے 27 اکتوبر کو متوقع اجلاس میں کیے جائیں گے، تاہم اب بیرسٹر گوہر ان خبروں کی تردید کردی ہے۔

WhatsApp
Get Alert