پشاور میں جے یو آئی سیکرٹریٹ کا کچھ حصہ تجاوزات کی وجہ سے گرانے کا خدشہ

کسی صورت ایک انچ جگہ بھی نہیں گرانے دیں گے، جے یو آئی ف کے رضاکاروں انصار الاسلام نے مفتی محمود مرکز کی سکیورٹی سنبھال لی، ترجمان جے یو آئی ف کا انتظامیہ سے نوٹس موصول نہ ہونے کا دعویٰ


پشاور(قدرت روزنامہ)پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام ف (جے یو آئی ف) کے صوبائی ہیڈکوارٹر مفتی محمود مرکز کو غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف باضابطہ نوٹس جاری کیے جانے کے بعد سیاسی و انتظامی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جے یو آئی کارکنان نے مرکز کی سکیورٹی خود سنبھال لی۔
اطلاعات کے مطابق پی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول زوہیب حسن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مفتی محمود مرکز کا ایک مخصوص حصہ 52 فٹ کی قانونی حد اور رائٹ آف وے کے اندر تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے، قواعد و ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی اے حکام نے عمارت کے اس متنازعہ حصے کو مسمار کرنے کا حکم دیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹس پارٹی قیادت کو ارسال کردیا گیا ہے۔


بتایا گیا ہے کہ پی ڈی اے کے اس اقدام کے بعد صورتحال نے اس وقت نیا موڑ لیا جب جے یو آئی کے ذیلی ونگ انصارالاسلام کے رضاکاروں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں مفتی محمود مرکز کا گھیراؤ کرتے ہوئے اندرونی و بیرونی سکیورٹی اپنے ہاتھوں میں لے لی، موقع پر موجود کارکنان نے پرجوش احتجاج کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر مرکز کی ایک انچ جگہ بھی مسمار نہیں ہونے دیں گے اور ہر قسم کی کارروائی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔


جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان عبدالجلیل جان نے پی ڈی اے کے نوٹس کو یکسر مسترد کر دیا، ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ہمیں تاحال کوئی باضابطہ نوٹس موصول نہیں ہوا، ہمیں اس کارروائی کی اطلاع میڈیا کے ذریعے ملی ہے، مرکز کے باہر والی سڑک پر رکاوٹیں اور بلاکس سکیورٹی کے نام پر خود انتظامیہ کی جانب سے رکھے ہوئے ہیں، انتظامیہ کسی بھی محاذ آرائی سے گریز کرے کیونکہ پارٹی کا مؤقف بالکل واضح اور قانونی ہے۔

WhatsApp
Get Alert