عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو ہسپتال لانے کے بعد وارڈ کو سیل کرنے کے الزامات

عمران خان کی بہن نورین نیازی کو ہسپتال لانے کے بعد آئی سی یو کے باہر پولیس نے تالے لگا دئیے، فیملی کو ملنے نہیں دیا جارہا، نہ ان کی خیریت بتائی جارہی ہے؛ پی ٹی آئی اور وکلاء کا بیان


لاہور (قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کی اچانک طبیعت خراب ہونے اور انہیں ہسپتال منتقلی کے بعد پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ظلم، جبر اور اخلاقی گراوٹ کی بدترین انتہا قرار دیا گیا ہے۔
پارٹی ترجمان اور قانونی ٹیم کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ انسانی تمام اخلاقی اقدار کو پامال کر رہی ہے، چیئرمین عمران خان کی بہن نورین نیازی کو اچانک دل کی شدید تکلیف لاحق ہوئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ہسپتال پہنچنے کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی جب پولیس نے انتہائی سخت اقدامات کرتے ہوئے ان کے آئی سی یو اور وارڈ کے باہر تالے لگا دیئے اور اسے مکمل طور پر سیل کر دیا۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ناصرف یہ کہ ان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا بلکہ ان کی صحت کے حوالے سے بھی کسی قسم کی کوئی مصدقہ یا تسلی بخش اطلاع فراہم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے، یہ بے شرمی اور فسطائیت کی وہ تاریخ ہے جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھی گئی، ایک قومی لیڈر کی غیر سیاسی بہنوں کو پہلے ہی طویل عرصے سے بغیر کسی ٹھوس جرم کے قید رکھا گیا ہے، اور اب جب وہ شدید علالت کے باعث ہسپتال کے بستر پر ہیں، تب بھی ان کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

عمران خان کی فیملی کے وکلاء نے تصدیق کی ہے کہ نورین نیازی تاحال ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں لیکن ان کی بیٹی ہاجرہ سمیت کسی بھی قریبی عزیز کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس سے پورے خاندان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، بیماری اور علاج کے معاملے پر اس قسم کی سختی اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، فوری طور پر نورین نیازی کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور ان کی صحت کے بارے میں حقائق کو چھپانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert