تعلیمی اداروں میں مریم نواز کی سالگرہ کی تقریبات پر پی ٹی آئی کی شدید تنقید
فارم 47 کی تھیف منسٹر مریم نواز کو تاریخ کے صفحات میں زبردستی شامل ہونے کی ایسی شدید بے تابی ہے کہ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ صبح کی اسمبلیاں میڈم کی سالگرہ کا کیک اور قصیدے بھگت رہی ہیں؛ ایکس پوسٹ

لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف نے تعلیمی اداروں میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سالگرہ کی تقریبات اور اسکولوں میں بچوں سے سالگرہ کے گیت گوانے کے معاملے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ اور اخلاقی گراوٹ کی بدترین مثال قرار دے دیا۔
تحریک انصاف کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فارم 47 کی مرہونِ منت حکومت چلانے والی وزیراعلیٰ کو تاریخ کے صفحات میں زبردستی اپنا نام درج کروانے کی اس قدر شدید بے تابی ہے کہ اب معصوم بچوں کے اسکول اور تعلیمی ادارے بھی اس ہوسِ شہرت سے محفوظ نہیں رہے، نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اسکولوں کی صبح کی اسمبلیاں اب تعلیم و تربیت کے بجائے میڈم کی سالگرہ کے کیک کاٹنے اور سیاسی گیت گانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب کا محکمہ تعلیم اب علمی درس گاہ نہیں رہا بلکہ حکمرانوں کے دربار میں جی حضوری سکھانے والا ادارہ بن چکا ہے۔
فارم 47 کی مرہونِ منت "تھیف منسٹر" مریم نواز کو تاریخ کے صفحات میں زبردستی شاملُ ہونے کی ایسی شدید بے تابی ہے کہ اب معصوم اسکول بھی ان کی ہوسِ شہرت سے محفوظ نہیں رہے۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ بچوں کی صبح کی اسمبلیاں بھی میڈم کی سالگرہ کا کیک اور قصیدے بھگت رہی ہیں۔ لگتا ہے پنجاب کا محکمہ تعلیم اب پڑھائی لکھائی کا نہیں، بلکہ حکمرانوں کے دربار میں جھکنے اور جی حضوری سکھانے کا باقاعدہ ادارہ بن چکا ہے۔
اس ویڈیو کو دیکھ کر ذرا بھی شک نہیں رہتا کہ ہمارے اسکول اب تعلیم و آگہی کے گہوارے نہیں، بلکہ اعلی پائے کے خوشامدی اور غلام پیدا کرنے والی نرسریاں بن چکے ہیں۔ جہاں بچوں کی تربیت، شعور اور کردار سازی ہونی چاہیے تھی، وہاں انہیں گلے پھاڑ پھاڑ کر سیاسی آقاؤں کی سالگرہ کے گیت گانے پر لگا دیا گیا ہے۔ اب فیصلہ قوم خود کر لے کہ نئی نسل کو علم دینا مقصود ہے یا شاہی دربار کے آدابِ کورنش سکھانا؟
اسکولوں کی اسمبلیاں کبھی اخلاقیات اور سبق آموزی کے لیے ہوا کرتی تھیں، لیکن اب یہ شاہی تشہیر اور شخصیت پرستی کا سستا اڈہ بن چکی ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ذی شعور اور مہذب معاشرے میں تعلیمی اداروں کو یوں سیاسی چاپلوسی کی بھٹی میں جھونکنا شرمناک سمجھا جاتا ہے۔
میڈم مریم نواز صاحبہ! تاریخ کے صفحات میں نام درج کروانے کے لیے بچوں سے جبراً سالگرہ کے گانے نہیں گوانے پڑتے، بلکہ کچھ ایسا کام کرنا پڑتا ہے کہ عوام خود یاد رکھیں۔ ورنہ اسکولوں کو جتنا مرضی قصیدہ خوانی کا مرکز بنا لیں، ان چاپلوس نرسریوں سے تاریخ ساز قائدین نہیں، صرف ذہنی غلام اور شخصیت پرست ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔
— PTI (@PTIofficial) October 29, 2026
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی جانے والی پوسٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ جو اسکول کبھی بچوں کی کردار سازی، اخلاقیات اور ذہنی آبیاری کے گہوارے ہوا کرتے تھے، انہیں اب سیاسی تشہیر اور شخصیت پرستی کا سستا اڈہ بنا دیا گیا ہے، دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں تعلیمی اداروں کو اس طرح سیاسی چاپلوسی کی بھٹی میں جھونکنا شرمناک سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں معصوم بچوں کو گلے پھاڑ کر سیاسی آقاؤں کے گیت گانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
بیان کے آخر میں وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ تاریخ کے صفحات میں نام صرف اس طرح کے ہتھکنڈوں سے درج نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے عملی کارنامے سرانجام دینے پڑتے ہیں جنہیں عوام خود یاد رکھیں، تعلیمی اداروں کو جتنا مرضی قصیدہ خوانی کا مرکز بنا لیا جائے، ان چاپلوس نرسریوں سے کوئی تاریخ ساز قائد نہیں بلکہ صرف ذہنی غلام اور شخصیت پرست ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔
