کج حصہ ٹُکر دا ایناں نوں وی دے دیندے تے سب ٹھیک سی! خواجہ آصف کا مولانا فضل الرحمان کو جواب

خیبرپختونخواہ میں آئین قانون کے مطابق گورنر راج ایمرجنسی لگائی، مولانا فضل الرحمان کو حصہ دے دیا جاتا تو کل والی تقریر نہ ہوتی، انہوں نے وہ حالات پیدا کردیئے ہیں کہ مولانا کی پَت لائی جائے؛ وزیردفاع کی شعلہ بیانی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف جارحانہ اور طنزیہ انداز اپناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر خیبرپختونخواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت مولانا کو ان کا مطلوبہ حصہ دے دیا جاتا تو شاید وہ اسمبلی کے فلور پر اس قسم کی سخت اور احتجاجی تقریر کرنے سے گریز کرتے۔
تفصیلات کے مطابق ایوانِ زیریں میں اپنے جارحانہ خطاب کے دوران خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اصل معاملہ عزت یا اصولوں کا نہیں ہے بلکہ مفادات کا ہے، موجودہ حالات ایسے بنادیئے گئے ہیں کہ اب مولانا فضل الرحمان کی مبینہ سیاست اور روپ کی اصلیت بے نقاب کی جائے گی، ہم نے خیبرپختونخواہ میں آئین قانون کے مطابق گورنر راج ایمرجنسی لگائی اگر مولانا فضل الرحمان کو حصہ دے دیا جاتا تو کل والی تقریر نہیں ہونی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اللہ اور رسول کے ناموں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے آئین کو بھی اپنی سیاست اور کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، ان کے تمام روپ محض مفاد پرستی اور سیاسی سودے بازی کے بہانے ہیں، جو لوگ دوسروں کو شرم و حیا کا درس دیتے ہیں، انہیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیئے، مولانا نے مشرف دور میں نورا کشتی کے ذریعے اپوزیشن لیڈر کا منصب حاصل کیا اور ساتھ ہی خیبرپختونخواہ میں طویل عرصے تک حکومت کے مزے بھی لوٹے ہیں۔
اپنی تقریر میں خواجہ آصف مزید کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے کشمیر کاز کے لیے سوائے مراعات اور پروٹوکول حاصل کرنے کے کیا خدمت کی ہے؟ جتنے اعزازات اور عہدے انہیں دیئے گئے، اب یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ سب فیصلے غلط تھے، پی ڈی ایم کی دورِ حکومت میں بھی مولانا نے کیا کچھ گھپلے کیے ہیں، اگر میرا منہ کھلوا بیٹھے تو سب کے سامنے حقائق آ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا اپنا ماضی مکمل طور پر بھلا کر سیاسی مخالفین پر تنقید کے تیر برساتے ہیں، لیکن کم از کم مجھ میں اتنی اخلاقی جرأت ضرور ہے کہ جب میں پارلیمنٹ میں بولتا ہوں تو مجھے اپنا ماضی صاف نظر آتا ہے اور اس بات کا خیال رہتا ہے کہ کہیں مجھ پر بھی ماضی کے حوالے سے انگلیاں نہ اٹھائی جائیں، انہیں عزت عزیز نہیں، انہوں نے وہ حالات پیدا کردیئے ہیں کہ مولانا کی پَت لائی جائے، میں ان کو گھر تک چھوڑ کر آؤں گا۔
اس موقع پر خواجہ آصف نے اس بات کا بھی دفاع کیا کہ جب میں خود کسی موقع پر فوج یا ہائبرڈ سسٹم کے حق میں بات کرتا ہوں تو میری پرانی تقاریر کا حوالہ دے کر مجھے طعنے دیئے جاتے ہیں حالانکہ میرا ہر مؤقف اور تقریر اپنے وقت کے مخصوص پس منظر اور سیاسی تناظر کے مطابق درست ہوتی ہے، سیاست میں منافقت کی روش کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور وہ ہر ناقد کو اس کے ماضی کے آئینے میں جواب دینے کا پورا حق رکھتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert