ججز کے درمیان نا انصافی کی ریس لگی ہوئی ہے، شیریں مزاری کا بیٹی اور داماد کو سزا پر ردعمل


راولپنڈی (قدرت روزنامہ) سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے اپنی بیٹی ایمان مزاری اور داماد ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو 13، 13 سال قید کی سزا سنائے جانے کے فیصلے پر سخت ترین ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانون و انصاف کا قتل اور غیر منصفانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نظامِ عدل اور موجودہ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، ڈاکٹر شیریں مزاری نے عدالتی کارروائی پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ججز کے درمیان ناانصافی کرنے کی ایک باقاعدہ ریس لگی ہوئی ہے کہ جج مجوکہ، جج ابو الحسنات یا جسٹس سپرا میں سے کون زیادہ غیر قانونی اور نامناسب فیصلہ صادر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جج صاحب کو اوپر سے ایک حکم ملا جو انہوں نے من وعن سنا دیا، یہ ایک مکمل طور پر شیم ٹرائل تھا جس میں استغاثہ ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، حتیٰ کہ پولیس کے اپنے گواہوں نے بھی اعتراف کیا کہ انہیں کسی نے نہ تو مارا اور نہ ہی ان پر تشدد کیا، لہٰذا اس کیس میں دہشت گردی کا کوئی تناظر بنتا ہی نہیں تھا۔
سابق وفاقی وزیر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جج کا بیٹا دوہرے قتل کے مقدمے میں ملوث ہو تو اسے فوراً ریلیف مل جاتا ہے، اور اگر وزیراعظم کے اہل خانہ پر کرپشن کے سنگین الزامات ہوں تو انہیں بھی استثنیٰ اور معافی دے دی جاتی ہے، لیکن دوسری جانب ہمارے بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جیسے وہ اس ملک کے سب سے بڑے دہشت گرد ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایمان اور ہادی نے عدالتی کارروائی کے دوران ایک ایک الزام غلط ثابت کیا لیکن اس کے باوجود انہیں 13 سال کی سزا سنا دی گئی کیونکہ یہ فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا، میری بیٹی اور داماد، محروم طبقات، بے گھر اور بے سہارا لوگوں، اور جبری طور پر لاپتا کیے گئے افراد کی آواز بننے کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں، ظالم حکمرانوں کو غریبوں کے حق میں آواز اٹھانا پسند نہیں ہے، اگر وزیراعظم بااختیار نہیں ہیں تو اخلاقی تقاضوں کے تحت انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

WhatsApp
Get Alert