حکمرانوں کی اندھی ضد اور سنسرشپ نے پارلیمنٹ کو بے توقیر کر دیا، ریاست کو ماں بنائیں اور ملک کو تجربہ گاہ نہ بنائیں ہم اتنے گئے گزرے نہیں ہیں کہ وطن فروشی کریں۔ آپ اس ملک کو کہاں لے جا رہے ہیں؟۔ : محمود خان اچکزئی


اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمودخان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کیا جسے ایک بار پھر سنسر کردیا گیا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی خطرناک بحران میں ہے۔ یہاں جو بھی سیاسی، اخلاقی، اقتصادی اور سماجی بحران ہیں، ان سب بحرانوں کا علاج خدا کے لیے کریں۔ انہوں نے بھی بار بار یہی کہا کہ اس کا ایک ہی نسخہ ہے، خدا کے لیے اس پارلیمنٹ کو مضبوط کریں۔ ہمیں تو آپ نے بتایا ہی نہیں ہے، ہم تو خارجی ذرائع سے سن رہے ہیں۔” خبریں اور اخبارات یہ معلومات حاصل کرتے ہیں کہ ہمارے خطے میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ ہم تو بار بار، پچھلے تین سال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ خطہ اب خطرناک حالت میں ہے۔ اگر ہم نے عقل و فہم اور اجتماعی دانش سے اس کا راستہ نہیں روکا تو ہمارا خطہ مست سانڈوں کا میدانِ جنگ بن جائے گا۔ پھر ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔
جنابِ اسپیکر! جو کچھ ہو رہا ہے، ہم اتنے گئے گزرے نہیں ہیں کہ یہ نہ سمجھ سکیں کہ ملک کا دفاع کیا ہے۔ ہم اتنے گئے گزرے نہیں ہیں کہ وطن فروشی کریں۔ آپ اس ملک کو کہاں لے جا رہے ہیں؟۔ سارے یورپ میں ہنگامے ہو رہے ہیں۔ آپ کیا بنگال کے بعد اس کو بھی توڑنا ہے؟خدا کو مانو، کیوں اس کو توڑنا چاہتے ہو؟ اس کو مضبوط بنائیں۔کیا ایسے یہ ملک چل سکتا ہے؟ ایسا نہیں ہوسکتا،حنیف عباسی بھائی! اس ملک کی ریاست کو ماں بنائیں۔ لوگوں کی خدمت کریں اور عوام کو عزت دیں۔ اگر میں آپ کو اس کی مبارک باد دوں تو آپ کو بھی مبارک ہو اور ان تمام لوگوں کو بھی مبارک ہو جنہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو ووٹ دیا۔ ایک شریف جج نے پھر استعفیٰ دے دیا ہے اور انہوں نے واضح اعلان کیا ہے کہ ”میں محسن کیانی اس لیے استعفیٰ دے رہا ہوں کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ اگر پاکستان کی نمائندہ پارلیمنٹ ہے، تو اس کا حق بنتا ہے کہ آپ اس کو اعتماد میں لیں کہ ہمارے خطے میں کیا ہو رہا ہے۔ ان حالات میں خواجہ آصف بھائی ہم آپ کے ساتھ ہیں، بسم اللہ کریں، آئیں۔ پھر کل یہ نہیں چلے گا۔ ایسا موقع آئے گا کہ آپ کہیں انکار نہیں کر سکیں گے۔ یہ پارلیمنٹ آپ کا سہارا بنے گی کہ جی ہم یہ بات پارلیمنٹ کے پاس لے گئے، پارلیمنٹ نہیں مان رہی، لہٰذا ہم نہیں آ رہے۔ جب آپ سے بات کرتے ہیں، آپ گالیاں دینی شروع کر دیتے ہیں، وہاں سے میرا بھائی حنیف بھائی غصہ کرتا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے؟حنیف عباسی کعبہ شریف گئے ہیں بتائیں کتنے پیسے دیئے ووٹ کیلئے؟میں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس حکومت میں کتنی کرپشن ہوئی ایک کمیٹی بنائیں،”ہم الزام نہیں لگا رہے اب بھی وقت ہے۔ پیپلز پارٹی بھی سن رہی ہے اور آپ بھی سن رہے ہیں، اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔ آپ کو کیا سپورٹ چاہیے؟ ووٹ؟ ہمارے تمام ووٹ آپ کے لیے ہیں۔ ہم سب آپ کو ووٹ دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان، تحریک انصاف، ہمارے تمام ساتھی آپ کو ووٹ دیں گے۔ آئیں، اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔ چیکوسلواکیہ کی طرح بیٹھ کر اس کا حساب کریں۔سندھی اپنا پٹواری بلا لے گا کہ یہ سندھ ہے، بلوچ اپنے بلا لے گا کہ یہ بلوچ ہے،
پنجاب اپنے بلا لے گا کہ یہ پنجاب ہے، اور سب خدا حافظ کر کے سلام کر دیں گے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کیوں توڑنا چاہتے ہو اس ملک کو؟ اسے بنائیں۔ آپ 70، 75 سال میں دیکھ لیں، اس میں ہمارا کوئی رول نہیں تھا۔ نہ سندھی کا رول تھا، نہ بلوچ کا رول تھا، نہ سرائیکی کا رول تھا، اور نہ پشتون کا رول تھا۔ آپ نے پاکستانی قوم کو نہیں بنایا۔یہاں پیسے والے کی گاڑی 40 ہزار میں پٹرول ٹینکی فل نہیں کراسکتا اور غریب20 ہزار روپے دیہاڑی دار مزدور نہیں کما رہا۔یہ کس طرح زندگی ہوگی؟ کروڑوں بچے آپ کے اسکول سے باہر ہیں۔پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے، لیکن کہاں کا قلعہ؟ کیا اس طرح کا اسلام ہوتا ہے؟
بچوں کی بھوک کی وجہ سے، اس دن آپ کو خدا یاد آئے گا کہ پاکستان کہاں جا رہا ہے۔ آئیں بسم اللہ کریں، کیا چاہیے آپ کو؟ میں آپ کو ان کنڈیشنل سپورٹ دیتا ہوں۔ آئیں پاکستان کو بنائیں۔ سندھی کو یہ اختیار دیں کہ بابا آپ جانیں، آپ کے وسائل جانیں۔ بلوچ آپ جانیں، آپ کے وسائل جانیں۔ پنجابی غریب پہ بھروسہ کریں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ اپنے راستے بند کر دیں۔ اگر آپ افغانستان سے راستہ بنانا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنی ڈکشنری سے یہ بات نکالنی ہوگی کہ کابل یا افغانستان ہمارا پانچواں صوبہ ہوگا۔ ‘اسٹریٹجک ڈیپتھ’ کی سوچ کو بھی نکالنا ہوگا۔ بسم اللہ کریں، جب آپ چاہیں؛ افغانستان آپ کا اتنا اچھا دوست تھا کہ بھٹو نے اپنی کابینہ کا اجلاس وہاں کیا۔ اگر مولانا صاحب نے کہا ہے کہ وہ جانے کے لیے تیار ہیں، تو ان کے بھی وہاں رشتے ہیں اور آپ کے بھی۔ آئیں، ملکوں پر برے اوقات آتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان برباد ہوئے، لیکن 50 سالوں میں وہ دنیا کے بہترین ممالک بن گئے۔ آئیں، بیٹھیں، ہمیں اعتماد میں لیں اور ہمیں سمجھائیں۔ چیخ و پکار اور گالیاں دینے سے کیا ہوگا؟ آپ مجھے گالیاں دیں، میں آپ کو گالیاں دوں، اس کا کیا فائدہ؟ اب بھی ان معاملات پر مذاکرات ہونے چاہئیں، سب کو بٹھائیں۔ جو کچھ ایران میں ہو رہا ہے، اس پر ہمیں اعتماد میں لیں۔ ہم آپ کی حمایت کریں گے۔ امریکہ کبھی دھمکیاں دیتا ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اب بھی مذاکرات اسی پر ہونے چاہئیں، جو کچھ ایران میں ہو رہا ہے، اس پر ہمیں اعتماد میں لیں۔آپ بتائیں ایران میں کیا ہورہا،ہمیں اعتماد میں لیں،ہم آپکا ساتھ دیں گے۔ خدانخواستہ اگر ایران پر اسرائیل اور امریکہ حملہ کرتے ہیں، تو ہماری پوزیشن کیا ہوگی؟ ہم کس کا دفاع کریں گے اور ہم کہاں جائیں گے؟ بسم اللہ کریں، نہ آپ اتنے اچھے ہیں اور نہ ہم اتنے برے ہیں، یہی پاکستان ہے۔ ان کو اعتماد میں لیں۔ نئے لوگ نہیں آئیں گے، پرانوں کو بھول جائیں۔ یہ پاکستان ہے اور یہ اس کے عوام ہیں، انہیں ساتھ بٹھائیں اور آئیں اس ملک کو اس بحران سے نکالیں۔ ہم آپ کو غیر مشروط حمایت دیں گے۔ مولانا، پی ٹی آئی اور ہماری بھی غیر مشروط حمایت ہوگی۔ آئیں تمام سیاسی لوگ مل کر بیٹھیں، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی۔ ہمارا آئین بالادست ہوگا اور تمام پالیسیاں یہیں بنیں گی۔ قوموں کو ان کے اختیارات ملیں گے اور ان کی زبانوں کا احترام کیا جائے گا۔ جناب، اب بھی یہ ایک بہترین ملک بن سکتا ہے۔ آپ فرعون سے زیادہ طاقتور نہیں ہیں۔ تاریخ پڑھ لیں، انہوں نے بچوں کو ذبح کیا تھا۔ آخر فرعون اور اس کے تماشے کہاں گئے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیت گئے اور وہ ہار گئے۔آپ فرعون سے طاقت ور نہیں ہیں، وہ بھی ہار گیا تھا۔ آئیں بسم اللہ کریں، نہ آپ ہمیں برا کہیں اور نہ ہم آپ کو، اب کوئی نیا نہیں آئے گا، ہم ہی سب ہیں اور ماضی کو بھول جائیں۔فقط چیخ و پکار اور گالیاں دینے سے کچھ نہیں ہوگا، یہ ہمارا مشترکہ ملک ہے، اسے بچانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ یہاں آئین اور انصاف کی حکمرانی ہو۔ ہم تمام ہمسایوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھیں گے۔ جو ہماری خودمختاری کا احترام نہیں کرے گا، ہم بھی اس کا احترام نہیں کریں گے، اور جو کرے گا، ہم بھی کریں گے۔ کوئی متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں۔

WhatsApp
Get Alert