نورین نیازی سے 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود اہلخانہ کی ملاقات نہ ہو سکی، شاکر محمود اعوان
یہی اسپتال، یہی مہینہ اور یہی کارڈیالوجی وارڈ تھا جہاں نواز شریف زیرِ علاج تھے، تو مریم نواز کو جیل سے خصوصی طور پر اسپتال لا کر اپنے والد سے ملاقات کروائی گئی تھی، صحافی کی ایکس پوسٹ

لاہور (قدرت روزنامہ)صحافی شاکر محمود اعوان نے نورین نیازی سے اہلخانہ کی ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 48 گھنٹوں سے کارڈیالوجی اسپتال میں موجود ہیں، تاہم ان کی بیٹی، نواسی اور خاندان کے کسی دوسرے فرد کو تاحال ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شاکر محمود نے اس صورتحال کو بے حسی اور بے شرمی کی انتہا قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسوس ناک امر ہے کہ اسپتال میں زیرِ علاج نورین نیازی کے اہلخانہ کو ان کی خیریت دریافت کرنے اور ملاقات کرنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی اسپتال، یہی مہینہ اور یہی کارڈیالوجی وارڈ تھا جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف زیرِ علاج تھے، اس وقت مریم نواز کو جیل سے خصوصی طور پر اسپتال لایا گیا تھا تاکہ وہ اپنے والد سے ملاقات کر سکیں۔
بے حسی اور بے شرمی کی انتہا دیکھیے!
نورین نیازی گزشتہ 48 گھنٹوں سے کارڈیالوجی اسپتال میں موجود ہیں، لیکن افسوس کہ تاحال ان کی بیٹی، نواسی سمیت خاندان کے کسی بھی فرد کو ان سے ملاقات تک کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہی اسپتال، یہی مہینہ اور یہی کارڈیالوجی وارڈ تھا جہاں نواز شریف زیرِ علاج تھے، تو مریم نواز کو جیل سے خصوصی طور پر اسپتال لا کر اپنے والد سے ملاقات کروائی گئی تھی۔
خدا دشمن ضرور دے، لیکن شریف خاندان جیسا کم ظرف اور انتقامی دشمن کسی کو نہ دے!— Shakir Mehmood Awan (@ShakirAwan88) October 30, 2026
صحافی نے سوال اٹھایا کہ جب ماضی میں ایک سیاسی شخصیت کے اہلخانہ کو اسپتال میں ملاقات کی خصوصی سہولت فراہم کی جا سکتی تھی تو اب نورین نیازی کے خاندان کو ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟ شاکر محمود اعوان نے مطالبہ کیا کہ نورین نیازی کے اہلخانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ خاندان کے افراد ان کی خیریت دریافت کر سکیں۔
یاد رہے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کی اچانک طبیعت خراب ہونے اور انہیں ہسپتال منتقلی کے بعد پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ظلم، جبر اور اخلاقی گراوٹ کی بدترین انتہا قرار دیا گیا تھا پارٹی ترجمان اور قانونی ٹیم کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں الزام عائد کیا گیا کہ حکومت اور انتظامیہ انسانی تمام اخلاقی اقدار کو پامال کر رہی ہے، چیئرمین عمران خان کی بہن نورین نیازی کو اچانک دل کی شدید تکلیف لاحق ہوئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ہسپتال پہنچنے کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی جب پولیس نے انتہائی سخت اقدامات کرتے ہوئے ان کے آئی سی یو اور وارڈ کے باہر تالے لگا دیئے اور اسے مکمل طور پر سیل کر دیا۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ناصرف یہ کہ ان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا بلکہ ان کی صحت کے حوالے سے بھی کسی قسم کی کوئی مصدقہ یا تسلی بخش اطلاع فراہم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے، یہ بے شرمی اور فسطائیت کی وہ تاریخ ہے جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھی گئی، ایک قومی لیڈر کی غیر سیاسی بہنوں کو پہلے ہی طویل عرصے سے بغیر کسی ٹھوس جرم کے قید رکھا گیا ہے، اور اب جب وہ شدید علالت کے باعث ہسپتال کے بستر پر ہیں، تب بھی ان کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
