مولانا فضل الرحمن ہمارے لیے باپ کی جگہ ہیں، کیپٹن (ر) صفدر

چنیوٹ(قدرت روزنامہ)کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن ہمارے لیے باپ کی جگہ رکھتے ہیں اور 1973 کا آئین ایک مقدس آئین ہے جس کا تحفظ ضروری ہے۔
چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے سوال اٹھایا کہ پارلیمنٹ میں تحفظ ختم نبوت اور آئین کے دفاع کے لیے مولانا فضل الرحمن کے علاوہ کس کو بھیجا گیا ہے؟
🚨🚨مولانا ہمارے والد کی طرح۔۔۔۔میرا جسم میری مرضی
1973 کا آئین مقدس آئین ہے، آپ نے پارلیمنٹ میں دفاع ختم نبوت اور آئین کے تحفظ کے لیے مولانا فضل الرحمن کے علاوہ کس کو بھیجا ہے؟
پچھلے دنوں ایک عورت نے حضرت مولانا پر کوئی بات کردی ، میں ایبٹ آباد میں تھا، میں نے کہا مولانا ہمارے لیے باپ کی جگہ ہے،
جب ہم کہتے ہیں کہ نیت کی اس نماز کی، حاضر پیچھے امام کے، چار رکعت نماز فرض عصر، اللہ اکبر۔۔۔
تو امام باپ ہوتا ہے پھر،
میں نے کہا ہم مولانا کے لیے اسعد کی طرح ہیں،ان کے بیٹے اسد کی جگہ ہیںرات کو مجھے ایک ملعونہ کا میسج آیا کہ تمہارے شناختی کارڈ پر تو لکھا ہوا ہے محمد صفدر ولد محمد اسحق ۔۔۔تو مولانا فضل الرحمن کہاں سے آ گیا؟
میں نے کہا کہ تم کسی دارالعلوم میں پڑھتی تو تمہارا جسم تمہاری مرضی نہ ہوتی، تمہیں کوئی بتاتا کہ جو تمہیں جنم دے، جس نے بیٹی دی اور جس نے تعلیم دی، وہ تینوں روز محشر ایک تخت پر بیٹھے ہوں گے، تینوں تمہارے والد کی طرح ہیں،
کیپٹن صفدر نے کہا کہ اگر تمہارا جسم تمہاری مرضی تو جب کینسر ہوتا ہے تو جسم خود ہی ٹھیک کر لیا کرو، کیپٹن صفدر نے چیسٹ اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ یہ کیوں کہتی ہو کہ یہاں کا کینسر ہے؟ وہاں کا کینسر ہے؟ جسم رب کا ہے، پہلے کہتی ہیں کہ میرا جسم میری مرضی، جب کینسر ہوتا ہے تو کہتی ہیں کہ مولوی صاحب دم کرکے دیں لیکن تب دم اثر نہیں کرتا۔۔۔
— Siddique Jan (@SdqJaan) October 29, 2026
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک خاتون نے مولانا فضل الرحمن کے بارے میں بات کی تو انہوں نے واضح کیا کہ مولانا ان کے لیے والد کی حیثیت رکھتے ہیں۔
کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ وہ مولانا فضل الرحمن کو اپنے لیے قابلِ احترام بزرگ سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ خاندانی تعلق جیسی وابستگی رکھتے ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں والدین، دینی تعلیم دینے والوں اور اساتذہ کے احترام سے متعلق بھی گفتگو کی۔
