’26ویں اور 27ویں ترمیم کے وقت یہی حکومت مولانا فضل الرحمن کے ساتھ تھی‘
یہ وہی مولانا فضل الرحمن ہے جب ترمیم کے دوران تعریفیں کرتے ان کے منہ نہیں تھکتے تھے کہ بڑے زیرک سیاستدان ہیں ،آج ان پر اللہ اور رسول کو بیچنے، دو نمبر کام کرنے اور کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں، اینکر پرسن کی پروگرام میں گفتگو

لاہور(قدرت روزنامہ)سینئر تجزیہ کار اور اینکر پرسن محمد مالک نے مولانا فضل الرحمان اور حکومتی حلقوں کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پیش کی جا رہی تھیں تو یہی حکومت مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کھڑی تھی اور حکومتی شخصیات ان کی سیاسی بصیرت اور صلاحیتوں کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتی تھیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد مالک نے کہا کہ یہ وہی مولانا صاحب ہیں جنہیں حکومتی حلقوں کی جانب سے زیرک سیاست دان اور انتہائی قابل شخصیت قرار دیا جاتا تھا، لیکن اب صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اب اللہ اور رسول ﷺ کے نام پر بھی سیاست کی جا رہی ہے اور اس معاملے میں ایسے کاروباری افراد بھی شامل ہیں جن پر مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں اور کرپشن کے الزامات ہیں۔
یہ وہی مولانا صاحب ہے جب 26 ویں ترمیم کے دوران انکے منہ نہیں تھکتے تھے کہ بڑے زیرک سیاستدان ہے آج وہ اللہ اور رسول کو بیچھنے والے، دو نمبر کام اور کرپشن کرنے والے بن گئے۔ محمد مالک https://t.co/0tQ5dNiez4
— Sheraz Ahmad Sherazi (@Sherazi_Silmian) October 30, 2026
محمد مالک نے سوال اٹھایا کہ آخر اس معاملے کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ محض فریقین کے درمیان باہمی تنازع ہے یا حکومت اپوزیشن کی باقی ماندہ آواز کو بھی خاموش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں حکومت اس معاملے میں بھی اپوزیشن کو مکمل طور پر خاموش کرنے کے لیے ونز اینڈ فار آل کی حکمت عملی تو اختیار نہیں کر رہی؟ یاد رہے وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتا تھا، ریاست سے متعلق بیان کے بعد احترام کی گنجائش نہیں رہی، ریاست اُس دن تک ماں ہوتی ہے جب تک یہ اسے نچوڑتے ہیں، ریاست سے مال لیتے ہیں تو ریاست اچھی ہوتی ہے، جب حکومت میں حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوک دو، انہوں نے لائن کراس کی ہے، اب انہیں ہر صورت جواب ملے گا۔
سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر انتہائی سخت ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا ذاتی طور پر بہت احترام کرتا تھا لیکن ریاست کے خلاف دیئے گئے ناشائستہ بیان کے بعد اب دل میں ان کے لیے احترام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، مولانا فضل الرحمان کا وطیرہ ہے کہ اگر انہیں حکومت میں حصہ اور مراعات ملیں تو سب ٹھیک رہتا ہے، لیکن جیسے ہی اقتدار یا حکومت میں کوئی کردار نہ ملے تو وہ ریاست اور اداروں کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاست اس وقت تک ان کے لیے ماں کی مانند ہوتی ہے جب تک یہ اس سے فائدے حاصل کرتے اور اسے نچوڑتے رہتے ہیں، تاہم اقتدار سے محرومی پر وہی ریاست ان کی تنقید کا ہدف بن جاتی ہے، اب جے یو آئی کو ریاست کی جانب سے نہ تو نوکری ملے گی، نہ پیسے اور نہ ہی ٹکٹیں فراہم کی جائیں گی، انہوں نے سرخ لکیر عبور کی ہے اور اب انہیں ہر بات کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
