سی ڈی اے کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر مبینہ تعمیراتی خلاف ورزیوں کا نوٹس جاری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر مبینہ تعمیراتی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سی ڈی اے نے نوٹس جاری کردیا ہے، سی ڈی اے کے شعبہ بلڈنگ کنٹرول نے گھر کے مالک کو نوٹس جاری کیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے نے سربراہ جے یا آئی ف مولانا فضل الرحمان کے گھر پر مبینہ تعمیراتی خلاف ورزیوں کا نوٹس چسپاں کر دیا۔
نوٹس میں گھر کے سیٹ بیکس میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی۔
نوٹس میں سی ڈی اے نے انتباہ کیا کہ سی ڈی اے کی اراضی پر گارڈ پوسٹس اور جنریٹر نصب کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا، سی ڈی اے نے مبینہ تعمیراتی خلاف ورزیاں 15 روز میں ختم کرنے کی ہدایت کر دی۔
مقررہ مدت میں خلاف ورزیاں ختم نہ کی گئیں تو عمارت سیل کرنے کی کارروائی ہوگی۔
سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان کے گھر پر مبینہ تعمیراتی خلاف ورزیوں کا نوٹس چسپاں کر دیا
مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر مبینہ تعمیراتی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سی ڈی اے کا نوٹس جاری
سی ڈی اے کے شعبہ بلڈنگ کنٹرول نے گھر کے مالک کو نوٹس جاری کیا
نوٹس میں گھر کے سیٹ بیکس میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی
سی ڈی اے کی اراضی پر گارڈ پوسٹس اور جنریٹر نصب کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا، نوٹس
سی ڈی اے نے مبینہ تعمیراتی خلاف ورزیاں 15 روز میں ختم کرنے کی ہدایت کر دی
مقررہ مدت میں خلاف ورزیاں ختم نہ کی گئیں تو عمارت سیل کرنے کی کارروائی ہوگی، سی ڈی اے کا انتباہ
مبینہ غیر قانونی تعمیرات ختم نہ کرنے کی صورت میں انہدام کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے، نوٹس
سی ڈی اے نے خلاف ورزیاں برقرار رہنے پر الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی کارروائی کا بھی انتباہ دے دیا
— 92 News HD Plus (@92newschannel) October 30, 2026
نوٹس کے مطابق مبینہ غیر قانونی تعمیرات ختم نہ کرنے کی صورت میں انہدام کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے، سی ڈی اے نے خلاف ورزیاں برقرار رہنے پر الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی کارروائی کا بھی انتباہ دے دیا۔
دوسری جانب سیکرٹری جنرل جے یو آئی ف سندھ مولانا راشد محمود سومرو نے اپنے ردعمل میں کہا کہ جنریٹر کی ثابت قدمی کو سلام!
2018ء سے آج 2026ء تک کتنے وزیراعظم آئے،
کتنی حکومتیں بدلیں، کتنے اپوزیشن لیڈر آئے،
مگر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے گھر کا جنریٹر اپنی جگہ ڈٹا رہا!
جنریٹر کی ثابت قدمی کو سلام!
2018ء سے آج 2026ء تک کتنے وزیراعظم آئے،
کتنی حکومتیں بدلیں، کتنے اپوزیشن لیڈر آئے،
مگر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے گھر کا جنریٹر اپنی جگہ ڈٹا رہا!عمران خان کے دور میں نوٹس آیا تو شہباز شریف اور بلاول بھٹو اسمبلی میں جنریٹر کے حق میں بولے۔
اب شہباز شریف وزیراعظم ہیں، دیکھتے ہیں جنریٹر کے حق میں بولتے ہیں یا نوٹس کے حق میں!ایک بات البتہ سمجھ آگئی: نہ اُس وقت عمران خان قصوروار تھا، نہ آج شہباز شریف!
اصل معاملہ تو اُن ’’نامعلوم‘‘ کا تھا، جو اب کچھ کچھ معلوم ہونے لگے ہیں! 😂اور ہاں!
کارکنوں کے ساتھ ساتھ جنریٹر بھی 2018ء سے مولانا صاحب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا تھا، کھڑا ہے اور ان شاء اللہ
کھڑا رہے گا!جنریٹر زندہ باد! وفاداری ایسی کہ بجلی آئے یا جائے،
جگھ وفاداری اور موقف نہیں بدلتا!#مولانا_آن_فائر
#لچر_پروپیگنڈہ_برگیڈ
#لولی_لنگڑی_لیگ
#مندر_کا_گھنٹہ_نقوی
#کوئی_شرم_ہوتی_ہے— Maulana Rashid Mahmood Soomro (@SoomroOfficial) October 30, 2026
عمران خان کے دور میں نوٹس آیا تو شہباز شریف اور بلاول بھٹو اسمبلی میں جنریٹر کے حق میں بولے۔
اب شہباز شریف وزیراعظم ہیں، دیکھتے ہیں جنریٹر کے حق میں بولتے ہیں یا نوٹس کے حق میں!
ایک بات البتہ سمجھ آگئی: نہ اُس وقت عمران خان قصوروار تھا، نہ آج شہباز شریف!
اصل معاملہ تو اُن ’’نامعلوم‘‘ کا تھا، جو اب کچھ کچھ معلوم ہونے لگے ہیں!
اور ہاں!
کارکنوں کے ساتھ ساتھ جنریٹر بھی 2018ء سے مولانا صاحب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا تھا، کھڑا ہے اور ان شاء اللہ
کھڑا رہے گا!
جنریٹر زندہ باد! وفاداری ایسی کہ بجلی آئے یا جائے،
جگھ وفاداری اور موقف نہیں بدلتا!
