مفتی محمود سینٹر کی زمین پر کوئی غیرقانونی قبضہ ہوا ہے تو معاملہ سامنے لایا جائے گا، طارق فضل چوہدری


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ مفتی محمود سینٹر کی زمین پر کوئی غیرقانونی قبضہ ہوا ہے تو معاملہ سامنے لایا جائے گا، یہ کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی، حکومت جے یوآئی کو ڈسمنٹل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چوک پر کھڑا وردی پوش پولیس سپاہی بھی ریاست کا نمائندہ ہے اور وہ ریاست ہے، ریاست ماں ہے اور اس نے اپنے بچوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے، لیبیا جیسی ریاست فوج کمزور ہونے کی وجہ سے تباہ ہوئی، عراق اور شام کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ بیرونی سازشوں اور دہشت گردی کے باوجود ہماری فوج اور ریاست مضبوط ہیں۔
سیاسی مقاصد اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے افواج اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اپنی وزارت اور ریاست پر لگے الزامات کا جواب دینا وزیر داخلہ محسن نقوی کی ذمہ داری تھی، 11 اکتوبر کو کابینہ کا اجلاس روک کر مولانا فضل الرحمٰن کے حتمی جواب کا انتظار کیا گیا تھا، سابقہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے تیار نہیں تھی، انکار ان کی طرف سے آیا، مولانا فضل الرحمان سے بات چیت آگے نہ بڑھنے کے بعد ہی کابینہ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ کیا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کابینہ کو اعتماد میں نہ لینے سے متعلق قیصر احمد شیخ کا بیان حقائق کے بالکل برعکس ہے، خیبر پختونخوا کے 10 سے 12 اضلاع میں پی ٹی آئی سمیت مختلف جماعتوں کے سیاستدان بھتہ دے کر گھروں کو جاتے رہے ہیں، سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کی اس حکومت کا خاتمہ چاہتی تھیں جو سیکیورٹی اداروں سے تعاون نہیں کر رہی تھی، حکومت جے یو آئی کو ڈسمنٹل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، پی ٹی آئی کے خلاف بھی صرف انتظامی اقدامات کیے گئے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مفتی محمود سینٹر کی زمین پر کوئی غیر قانونی قبضہ ہوا تو معاملہ سامنے لایا جائے گا، یہ کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے داماد پر ایف آئی آر ہونے پر اسے خود تھانے پیش کر کے قانون کی بالادستی ثابت کی تھی۔

WhatsApp
Get Alert