سمجھ لو! محسن نقوی کی مولانا پر سخت باتیں دراصل وہ غصہ ہے جو فوج کے بڑوں کی جانب سے تھا، منیب فاروق

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی منیب فاروق کا کہنا ہے کہ سمجھ لو! محسن نقوی کی مولانا پر سخت باتیں دراصل وہ غصہ ہے جو فوج کے بڑوں کی جانب سے تھا، پنڈی میں مولانا کے بارے غصے کی شدید لہر ہے کہ بس بہت ہوگیا۔اپنے وی لاگ میں منیب فاروق نے بتایا کہ مولانا کی تقریر کے بعد درجہ حرارت بڑھا ضرور ہے، لیکن دیکھنایہ ہے کہ ٹمپریچر بڑھ کر کہاں تک جائے گا۔
میں بتا دوں کہ جو پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے، جو پاکستان کی فوج ہے
، محسن نقوی کی مولانا پر سخت باتیں کرنا ،سمجھ لو! وہ غصہ فوج کے کرتا دھرتا کی جانب سے تھا۔اگر میں یہ کہوں کہ پنڈی میں مولانا کے بارے جو غصے کی لہر ہے، ان کے مطابق بس بہت ہوگیا، مولانا کی جس طرح کی سیاست رہی ہے اب ایسی نہیں رہے گی۔
آپ اگر ریاست کو دھمکی دیں گے کہ آپ کے پاس مدارس کے طلباء اور ورکرز ہیں تو ٹھیک ہے پھر ایسے معاملات نہیں چلیں گے، بڑی تلخی ہوجائے گی، لیکن شاید تلخی اس لیول تک کبھی نہ جائے جتنی پی ٹی آئی کے ساتھ تلخی چلے گئی ہے۔
مولانا کے ساتھ باجوہ دور میں بھی حالات اتنے اچھے نہیں تھے، وہ لانگ مارچ اسلام آباد لے گئے تو فیض حمید نے ان کو نئی ٹرک کی بتی دکھا دی اور واپس چلے گئے۔
محسن نقوی نے جس انداز میں مولانا فضل الرحمان کو جواب دیا ہے، اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ فوج، اسٹیبلشمنٹ اور اس کے کرتا دھرتا کی جانب سے خاصی ناراضی اور غصے کا ہے۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے پنڈی کا مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ ریاست کے خلاف سیاست اب اس طرح نہیں چل سکتی۔
یہ کہنا کہ ہمارے پاس مدرسے کے بچے ہیں اور ملک کے خلاف اس نوعیت کی دھمکی آمیز باتیں کرنا، معاملات میں مزید تلخی پیدا کرے گا:منیب فاروق صاحب
— Zeshan Noor 🇵🇰 (@ZeshanNoor007) October 30, 2026
اب ریاست کہتی ہے کہ ایسے معاملات نہیں چلیں گے، اور ارادے یہ ہیں کہ مولانا سے جو سوالات آج تک نہیں پوچھے گئے ، وہ پوچھے جائیں گے۔
یہ ایک خبر ہے اس کی تصدیق کہاں سے ہوگی؟کیا مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے وفاقی حکومت اور وزیراطلاعات عطا تارڑ آکر قوم کو بتائیں گے کہ مولانا صاحب یہ سب کچھ کررہے ہیں؟کہ مولانا یہ سب کچھ کررہے ہیں اور اس پر ریاست کا یہ سب ردعمل ہوگا؟ اگر وہ یہ سب کردیتے ہیں تو اس مطلب یہ ریاست کا ردعمل ہوگا۔
