متحدہ اپوزیشن کا مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر غیر معمولی سربراہی اجلاس: نومبر میں ملک گیر اے پی سی بلانے اور مشترکہ احتجاجی محاذ کا اعلان
عمران خان کو فوری الشفاء ہسپتال منتقل کیا جائے، کے پی میں گورنر راج اور آزاد کشمیر میں خونریزی کی شدید مذمت، مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ڈرون بھیجنے کیخلاف متحدہ اپوزیشن یک زبان

اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) متحدہ اپوزیشن کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس میں سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی، امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن، قائد حزب اختلاف سینیٹ و سربراہ ایم ڈبلیو ایم علامہ ناصر عباس، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ، سابق وفاقی وزیر سینیٹر نور الحق قادری، چیف وہپ قومی اسمبلی عامر ڈوگر، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی، حافظ حمداللہ، مولانا عطاء الرحمٰن، مولانا عطاء الحق درویش، مولانا صلاح الدین ایوبی، ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین احمد یوسفزئی، خالد یوسف چوہدری، زاہد درانی، اسلم غوری، علامہ احمد اقبال رضوی اور دیگر سرکردہ قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن کے گھر پر ڈرون بھیجنے، غیر قانونی نوٹسز کے اجرا، ملک کی مجموعی سیاسی و پارلیمانی صورتحال، آئین و جمہوریت کو درپیش خطرات، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قید، صحت اور جان کو لاحق سنگین خطرات، علیمہ خان، عظمیٰ خان، نورین نیازی اور قاسم زمان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی و گورنر راج، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور اراکینِ پارلیمان کی مبینہ جبری گمشدگیوں، کشمیر کی خونریز صورتحال، بدترین مہنگائی، کرپشن اسکینڈلز اور پاک افغان تجارتی راستوں کی بندش پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی بھرپور مخالفت پر مولانا فضل الرحمٰن کے دوٹوک مؤقف کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور ان کے خلاف حکومتی انتقام، کردار کشی کی مہم، رہائش گاہ کے تقدس اور چادر و چاردیواری کی پامالی کے لیے ڈرون کے استعمال کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ متحدہ اپوزیشن نے واضح کیا کہ سیاسی اختلاف کا جواب نجی زندگی اور گھروں کے تقدس کو پامال کر کے دینا فسطائیت ہے اور پوری اپوزیشن مولانا فضل الرحمٰن کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اجلاس میں بانی تحریک انصاف عمران خان کی مسلسل قید، بنیادی طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور ان کی جان کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں انہیں فوری طور پر الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔ رہنماؤں نے عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان، نورین نیازی اور قاسم زمان سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قید تمام سیاسی اسیران کو بلا تاخیر رہا کرنے اور 3 ایم پی او کے تحت چادر و چاردیواری کی پامالیوں کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔
متحدہ اپوزیشن نے خیبر پختونخوا کی حکومت اور منتخب نمائندوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو صوبائی خودمختاری اور جمہوری نظام پر حملہ قرار دیتے ہوئے لاپتہ و زیرِ حراست وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی، صوبائی وزراء ڈاکٹر امجد علی خان اور فضل شکور خان، اراکینِ قومی اسمبلی جنید اکبر، محمد اقبال آفریدی، فضل محمد خان، عادل خان بازئی، حاجی امتیاز احمد چوہدری، زبیر خان، نسیم علی شاہ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان اکرام اللہ، دلاور خان، اورنگزیب خان، عبدالسلام آفریدی، محمد ریاض، سلطان روم، یامین خان، محمد اعظم اور فتح الملک ناصر کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی اور اس کے گورنر کے ایماء پر خیبر پختونخوا میں بدامنی کا بہانہ بنا کر پی ٹی آئی قائدین کو غیر قانونی حراست میں رکھا جا رہا ہے اور تجاوزات کے نام پر عوام کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے، جس پر پیپلز پارٹی کو اپنا دہرا معیار ختم کر کے پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ شرکاء نے آئی ایم ایف کی جانب سے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی اور وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے پنجاب میں بدعنوانی سے متعلق بیانات پر عدالتی و غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں ملک بھر کی سیاسی و جمہوری قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے رواں ماہ نومبر میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) منعقد کرنے کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اے پی سی کی انتظامی و سیاسی تیاریوں کے لیے ایک بااختیار آرگنائزنگ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس میں سلمان اکرم راجہ، سینیٹر کامران مرتضیٰ، محمد اسلم غوری، عامر ڈوگر، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور ناصر شیرازی شامل ہیں، جبکہ اخوانزادہ حسین احمد یوسفزئی اور خالد یوسف چوہدری کوآرڈینیٹرز مقرر کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے باہمی اشتراک عمل کو مضبوط بنانے کے لیے علیحدہ سب کمیٹی بھی قائم کر دی گئی۔ شرکاء نے آزاد جموں و کشمیر میں جاری خونریزی، خوراک و ادویات کی بندش اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مظاہرین کے ساتھ فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں بلوچستان اور پختونخوا کے افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی مسلسل بندش کو عوام کا معاشی قتل عام قرار دیتے ہوئے بارڈر ٹریڈ فوری بحال کرنے اور خیبر پختونخوا میں مقامی آبادی کے حق کو تسلیم کیے بغیر معدنیات سے متعلق کسی بھی پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے آئین و جمہوریت کی بحالی تک مشترکہ مزاحمت جاری رکھنے کا عزم دہرایا گیا۔
