ری سائیکل موبائل نمبروں سے منسلک ایک لاکھ 76 ہزار واٹس ایپ اکاؤنٹس بند

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے نے میٹا کے تعاون سے ری سائیکل ہونے والے موبائل نمبروں پر رجسٹرڈ ایک لاکھ 76 ہزار واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں، جبکہ غیر فعال اور منسوخ شدہ سمز کے ذریعے سائبر فراڈ کی روک تھام کے لیے مستقل نظام وضع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق یہ اکاؤنٹس اتھارٹی کی درخواست پر بلاک کیے گئے۔ یہ اقدام ان شکایات کے بعد کیا گیا جن میں بتایا گیا تھا کہ دوبارہ جاری کیے جانے والے موبائل نمبروں سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کو سائبر فراڈ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے اب تک تقریباً ایک کروڑ ایسے موبائل نمبرز میٹا کو فراہم کر چکی ہے جو ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے ری سائیکل کیے گئے تھے، تاکہ ان نمبروں پر رجسٹرڈ واٹس ایپ اکاؤنٹس کی تصدیق اور انہیں بلاک کیا جا سکے۔
پی ٹی اے اور میٹا کے درمیان طے پانے والے مستقل طریقہ کار کے تحت اب ہر ماہ پانچ ہزار ری سائیکل موبائل نمبرز میٹا کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے، جن سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کی نشاندہی کرکے انہیں غیر فعال کیا جائے گا۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق ملک میں ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس اس وقت تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ ری سائیکل موبائل نمبرز موجود ہیں۔ ان نمبروں سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کا سابقہ صارف کی سم بند یا منسوخ ہونے کے باوجود فعال رہنا فراڈ کے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ جب کوئی نیا صارف ایسا نمبر حاصل کرتا ہے تو اس سے منسلک پرانا واٹس ایپ اکاؤنٹ فعال ہونے کی صورت میں اسے مختلف دھوکا دہی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح نئے صارفین بھی سائبر جرائم کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
طے شدہ طریقہ کار کے تحت ری سائیکل نمبروں سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کو مرحلہ وار بلاک کیا جائے گا، تاکہ ان کے غلط استعمال کا راستہ روکا جا سکے۔
یہ پیش رفت واٹس ایپ کے ایسے اکاؤنٹس کے ذریعے سائبر فراڈ کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہوئی ہے جو غیر فعال موبائل نمبروں پر رجسٹرڈ تھے۔ ان شکایات کے تناظر میں پی ٹی اے نے مسئلے کے حل کے لیے میٹا سے رابطہ کیا تھا۔
پی ٹی اے حکام نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال اتھارٹی کی جانب سے میٹا کو بھجوائی گئی شکایات میں سے 82 فیصد حل کی گئیں، جو دونوں اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی عکاسی کرتی ہیں۔
