پنجاب بھر میں کوڑا ٹیکس کی ادائیگی لازمی قرار دے دی گئی
کوڑا ٹیکس ادا نہ کرنے والے شہری جائیداد خرید اور فروخت نہیں کر سکیں گے، این او سی کا اجرا روکنے کا فیصلہ، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور ٹاؤنز میں کوڑا ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہاں انتظامیہ اپنی سطح پر صفائی کی فیس وصول کرکے کچرا اٹھانے کا انتظام کرتی ہے،حکام

لاہور(قدرت روزنامہ)پنجاب بھر میں کوڑا ٹیکس کی ادائیگی لازمی قرار دے دی گئی، ٹیکس ادا نہ کرنے والے شہریوں کو جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب کوڑا ٹیکس کی دوسری سہ ماہی کے بلز بھی یکم جنوری سے جاری کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ ایکسائز حکام کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران کوڑا ٹیکس کی مد میں 2 کروڑ 40 لاکھ روپے جمع کیے گئے ہیں، جبکہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں اب تک 14 لاکھ بلز تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کوڑا ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر پراپرٹی کی خرید و فروخت کے لیے این او سی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ حکام کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹیز اور ٹاؤنز میں کوڑا ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہاں انتظامیہ اپنی سطح پر صفائی کی فیس وصول کرکے کچرا اٹھانے کا انتظام کرتی ہے۔
پنجاب میں موجود 50 لاکھ یونٹس میں سے تقریباً 20 فیصد سے زائد پراپرٹیز سوسائٹیز اور ٹاؤنز میں واقع ہیں۔
واضح رہے کہ پنجاب بھر میں یکم ستمبر سے کوڑا ٹیکس کے بلز کا اجرا شروع کیا گیا تھا۔ شہری ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر اپنا پراپرٹی نمبر درج کرکے آن لائن بل بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق پہلی سہ ماہی کے باقی ماندہ بلز بھی جلد تقسیم کیے جائیں گے۔ بتایا جارہا ہے کہ دیہی علاقوں کے لیے 3 سے 5 مرلہ گھروں پر ماہانہ 200 روپے، 10 مرلہ یا اس سے بڑے گھروں پر ماہانہ 400 روپے، چھوٹے کاروبار پر ماہانہ 300 روپے، درمیانے کاروبار پر ماہانہ 700 روپے اور بڑی صنعتوں یا فیکٹریوں پر ماہانہ 1,000 روپے ٹیکس لگے گا، اسی طرح شہری علاقوں کے لیے 5 مرلہ تک گھروں پر ماہانہ 300 روپے, 5 سے 10 مرلہ ماہانہ 500 روپے, 10 مرلہ سے 1 کنال تک ماہانہ 1,000 روپے، 1 سے 3 کنال ماہانہ 2,000 روپے، 3 کنال سے بڑے گھروں سے ماہانہ 5,000 روپے کوڑا ٹیکس وصول کیا جائے گا جب کہ تجارتی علاقوں کے لیے دکانیں ماہانہ 500 روپے, درمیانے کاروبار ماہانہ 1,000 روپے, بڑی صنعتیں، کاروبار، فیکٹریاں ماہانہ 3,000 روپے ٹیکس ادا کریں گی۔
محکمہ بلدیات کے سیکریٹری میاں شکیل احمد کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایات پر شروع کیا گیا جس کا مقصد دیہی علاقوں کو بھی شہری علاقوں جیسی صفائی کی سہولیات فراہم کرنا ہے جس کے لیے گھر گھر کچرا اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور یکم جولائی سے رہائشیوں و کاروباری اداروں سے سروس چارجز کی وصولی شروع ہو جائے گی، اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
