ہزارہ ٹاؤن میں 41 کروڑ 60 لاکھ کے 34 واٹر منصوبے واسا کی غفلت سے غیر فعال، شہری بوند بوند کو ترس گئے: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی

کلی خلی کے 6 سرکاری ٹیوب ویلز پر ناجائز قبضہ، سرکاری خرچ پر پانی کمرشل فروخت کرنے کی تحقیقات اور فوری بحالی کا مطالبہ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے مرکزی ترجمان نے ہزارہ ٹاؤن اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پینے کے پانی کے سنگین اور بدترین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے لاکھوں نفوس پر مشتمل یہ گنجان آباد بستی پانی جیسی بنیادی ضرورت کے حصول کے لیے نجی واٹر سپلائی اسکیموں اور ٹینکر مافیا کی محتاج چلی آ رہی ہے، جو متعلقہ حکومتی اداروں کی مجرمانہ لاپرواہی اور بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی میں مکمل ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سال 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے منتخب عوامی نمائندے قادر علی نائل نے علاقے کے دیرینہ آبی بحران کے مستقل تدارک کے لیے محکمہ واسا کے توسط سے مالی سال 2019 سے مالی سال 2023 تک تقریباً 416 ملین روپے (41 کروڑ 60 لاکھ روپے) کی خطیر رقم سے 34 واٹر سپلائی اسکیموں کی منظوری اور تعمیراتی عمل کو یقینی بنایا تھا، جن میں ٹیوب ویلز کی تنصیب، پانی کے ذخیرہ کے لیے بڑے ریزروائرز اور طویل پائپ لائنز کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل تھی۔ تاہم انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ عوامی ٹیکسوں کے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ان اہم منصوبوں کو محکمہ واسا کی انتظامی غفلت، ناقص مانیٹرنگ اور بیوروکریسی کی روایتی عدم دلچسپی کے باعث تاحال مکمل طور پر فعال نہیں کیا جا سکا۔ متعلقہ حکام کو جواب دینا ہوگا کہ ان منصوبوں کو غیر فعال رکھ کر عوام کو ان کے بنیادی حق سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے۔
مرکزی بیان میں مزید انکشاف کیا گیا کہ کلی خلی میں سرکاری وسائل سے نصب کیے گئے 6 سے زائد ٹیوب ویلز پر بااثر عناصر کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی قبضہ اور ان کے تجارتی استعمال کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان سرکاری ٹیوب ویلز سے نجی واٹر ٹینکرز کے ذریعے کمرشل بنیادوں پر پانی فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ ان کی بجلی کے بھاری اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ صورتحال درست ہے تو یہ سرکاری اثاثوں کے ناجائز استعمال، عوامی وسائل کے کھلے استحصال اور واسا کی نگرانی کے نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ حیرت کا مقام ہے کہ جو تنصیبات عوام کی پیاس بجھانے کے لیے تھیں وہ نجی منافع خوری کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور انتظامیہ تماشائی بنی ہوئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دنوں کیسکو/واپڈا کی جانب سے نجی واٹر سپلائی اسکیموں کے خلاف بجلی چوری کے تحت کارروائی اور بجلی کے کنکشنز منقطع کیے جانے کے بعد علاقے میں پانی کی ترسیل کا پورا ڈھانچہ بیٹھ چکا ہے، جس کے نتیجے میں ہزارہ ٹاؤن اور گردونواح کے لاکھوں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ نجی اسکیمیں بند، ٹینکرز ناکافی اور سرکاری منصوبے غیر فعال ہونے کی وجہ سے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے جو کہ اب ایک انتظامی مسئلے سے بڑھ کر سنگین انسانی المیے کا روپ دھار چکا ہے۔ پارٹی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے واضح اور دوٹوک احکامات کے باوجود متعلقہ محکمے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے حکومتِ بلوچستان اور محکمہ واسا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام زیرِ تکمیل واٹر اسکیموں کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کیا جائے، کلی خلی سمیت دیگر مقامات پر تمام سرکاری ٹیوب ویلز سے ناجائز قبضے فوری ختم کرا کے انہیں واسا کی تحویل میں دیا جائے، بجلی کے ناجائز استعمال اور پانی کی غیر قانونی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کرا کے فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے، اور مستقل حل تک متاثرہ بستیوں کو بلا معاوضہ پانی کی ترسیل یقینی بنائی جائے، بصورت دیگر پیدا ہونے والی تمام تر صورتحال اور عوامی ردعمل کی مکمل ذمہ داری حکومت اور متعلقہ افسران پر عائد ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert