سندھ اسمبلی کی اسپیکر سمیت 3 خواتین رہنما تحریک انصاف میں شامل ہو گئیں
کراچی(قدرت روزنامہ)سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر سمیت مسلم لیگ ق اور فنکشنل لیگ کی تین خواتین رہنماؤں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سندھ ارباب غلام رحیم اب سے کچھ دیر قبل سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر راحیلہ ٹوانہ کے گھر پہنچے، جہاں اُن سے موجود سیاسی صورت حال پر گفتگو کی۔نجی ٹی وی اے آروائی کے مطابق اس موقع پر مسلم لیگ ق کی سابق رہنما نے اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا اور آئندہ پی ٹی آئی کے
پلیٹ فارم سے عوامی خدمات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔سابق ڈپٹی اسپیکر راحیلہ ٹوانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی کے حالات بدتر ہوگئے، میرے گھر پی ٹی آئی کے بہت لوگ آئے، میں کسی جماعت میں جانا نہیں چاہتی تھی مگر عمران خان کے نظریے نے بہت زیادہ متاثر کیا، جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، انہوں نے دبنگ انداز سے پاکستان کی لڑائی لڑی‘۔انہوں نے کہا کہ ’ارباب غلام رحیم جب وزیراعلیٰ سندھ تھے تو تمام نہروں کو صاف کردیا گیا تھا اور پانی کی منصفانہ تقسیم ہوتی تھی، ہم نے پاک وطن پارٹی کی بنیاد رکھی تھی، آج میں اُس پارٹی کو پاکستان تحریک انصاف میں ضم کررہی ہوں‘۔قبل ازیں تحریک انصاف کی جانب سے سندھ میں ارباب غلام رحیم کو فعال کرنے کا منصوبہ ناکام ہونے کے بعد مہر قبیلے کوآزمانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ جی ڈی اے رہنماچیف سردار علی گوہر خان مہر اور انکے قریبی اتحادی میر ہالار خان پتافی کو میدان میں اتارنے کا مہرہ تیار ہو گیا آئندہ چند روز میں دونوں رہنمائوں کو اہم ذمہ داریاں دیے جانے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے ارباب غلام رحیم کے بھتیجے ارباب لطف اللہ کو وزیر اعلی سندھ کا معاون خصوصی مقرر کرنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے سیاسی چالوں کا جواب سیاست سے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اس ضمن میں صوبائی وزیر عبدالباری پتافی کے چھوٹے بھائی ہالار خان پتافی کو گھوٹکی میں ان کے مد ِ مقابل کھڑا کرنے کی حکمت ِ عملی مرتب کی گئی ہے جبکہ مہر قبیلے کو سندھ کی حکمرانی کی دعویدار جماعت کو ٹف دینے کے لیے بڑی ذمہ داری دینے کا مسودہ تیار کیا گیا ہے. چند روز قبل علی گوہر خان مہر کی وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ہونے والی ملاقات بھی اہم تصور کی جا رہی ہے ۔واضح رہے چند روز قبل پی ٹی آئی کی جانب سے سندھ میں سیاسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے سابق صوبائی وزیر نادر اکمل لغاری کو بھی اہم ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا گیاتھا تاہم ان کی جانب سے طبیعت ناساز ہونے کے باعث تحریک انصاف کی تمام تر پیشکش سے معذرت کرتے ہوئے انکی جگہ ہالار خان پتافی کو ذمہ داری دینے کامطالبہ کیا گیا تھا۔
