چئیرمین نیب کی تقرری کے لیے شہباز شریف سے مشاورت نہیں کروں گا
اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم عمران خان نے چئیرمین کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت سے انکار کر دیا ہے۔وفاقی کابینہ نے چئیرمین نیب کی مدت میں توسیع کے لیے نیب آرڈیننس کی منظوری دے دی جو سرکولیشن کے ذریعے دی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موقف اپنایا کہ وہ چئیرمین نیب کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت نہیں کریں گے۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر فواد چوہدری اور فروغ نسیم پر واضح کیا کہ وہ چئیرمین نیب کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کا اس حوالے سے اپوزیشن سے مشاورت کا کوئی ارادہ ہے۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت نے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے نیب ترمیمی آرڈیننس میں ترامیم کا حتمی مسودہ تیار کرلیا ہے۔
وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ تقرری کے لیے وزیراعظم اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے مشاورت کریں گے۔ جبکہ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بھی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مشاورت کرنے کی تصدیق کردی۔ نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس میں شہبازشریف سے ہی مشاورت کی جائے گی، اس وقت تک شہبازشریف سے رابطہ نہیں ہوا، قانون کہتا ہے اپوزیشن لیڈرسے مشاورت کرنی ہے، اپوزیشن لیڈرسے مشاورت کوئی بری بات نہیں۔
ایشوتب بنے گا جب آئین کی خلاف ورزی ہوگی، اس میں کسی قسم کی کوئی آئین کی خلاف ورزی نہیں ہورہی۔ اگرمعاملے میں ڈیڈ لاک ہوا توپارلیمانی کمیٹی کومعاملہ ریفرکیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو نئی ترمیم لا رہے ہیں اس میں اپوزیشن کو ایشو بنانے کا موقع نہیں ملے گا، نئے آرڈیننس میں ناقابل توسیع کا لفظ ہٹایا جارہا ہے، اپوزیشن سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک رہا توموجودہ چیئرمین برقراررہیں گے۔
وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پرنیب ترمیمی آرڈیننس کا ڈرافٹ تیارکرلیا ہے۔ ٹیکس کیسزکونیب ڈیل نہیں کرے گا، ایف بی آرمیں جائیں گے، جب تک چیئرمین نیب نئے نہیں آئے پرانے چیئرمین کام کریں گے۔ خیال رہے کہ حکومت نے موجودہ چئیرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کا نیا حل نکال لیا۔ وزارت قانون نے نیب ترمیمی آرڈیننس کا حتمی مسودہ تیار کرلیا، جس کے تحت موجودہ چئیرمین نیب کی مدت ملازمت میں اضافہ کیا جا سکے گا
