الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے پارٹی فنڈنگ ریکارڈ تک رسائی دے دی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) الیکشن کمیشن نے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے پارٹی فنڈنگ کے ریکارڈ تک رسائی دے دی۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی فارن فنڈنگ کیس پر سماعت ہوئی ، جہاں الیکشن کمیشن نے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے پارٹی فنڈنگ ریکارڈ تک رسائی دے دی۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء فرخ حبیب نے کہا کہ ن لیگ کے 7 اور پیپلزپارٹی کے 12 ایسے اکاؤنٹس نکل آئے ہیں جو الیکشن کمیشن سے چھپائے گئے تھے ، جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے ریکارڈ تک رسائی دی جائے ، جس پر الیکشن کمیشن نے مالی امور کے ماہر کے ذریعے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اجازت دی۔
وزیر مملکت فرخ حبیب نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ریکارڈ کا جائزہ لے کر الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے رکھیں گے ، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے جعلی اکاؤنٹس سامنے لائیں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو التواء کے پیچھے چھپ جاتے تھے لیکن ہم اب انہیں بھاگنے نہیں دیں گے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ الیکشن کمیشن میں اگر فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیراعظم مستعفی ہو جائیں؟سپریم کورٹ آف پاکستان میں وفاقی وزیر خسرو بختیار کو بطور وزیر کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا کہ خسرو بختیار وفاقی وزیر ہونے کے ساتھ شوگر ملز کے مالک بھی ہیں، درخواست کے مطابق شوگر ملز پر نیب انکوائری چل رہی ہے، کون سا قانون کہتا ہے کہ وفاقی وزیر پر انکوائری شروع ہو جائے تو اسے عہدے سے مستفی ہونا چاہئیے؟ آپ نیب قانون یا آئین کے حوالے سے یہ بات ثابت کر دیں کہ وفاقی وزیر کا انکوائری کی صورت میں مستعفی ہونا ضروری ہے۔
جس پر درخواست گزار احسن عابد نے کہا کہ روپا ایکٹ کہتا ہے کہ پبلک آفس ہولڈر امین ہونا چاہئیے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ کیس میں بنیادی سوال یہ ہے کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں، آپ کے کیس میں کوئی جان نظر نہیں آ رہی، آپ نے مثال دی دوسرے ملکوں میں ریلوے حادثے پر وزیر مستعفی ہو جاتے ہیں، یہ اخلاقی اقدار کی بات ہے جو جمہوری نظام میں مختلف ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ بتائیں انکوائری شروع ہونے پر ہمارے ملک میں کتنے وزیر آج تک مستعفی ہوئے؟ الیکشن کمیشن اگر فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیراعظم مستعفی ہو جائیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست گزار کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیس کی تیاری کر کے آئیں ورنہ عوامی وقت ضائع کرنے پر آپ کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی ، سپریم کورٹ نے درخواست گزار احسن عابد کو کیس کی تیاری کی مہلت دے دی اور درخواست گزار کو کیس کی تیاری کا وقت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

WhatsApp
Get Alert