سوڈ ڈیم میں پانی کی سطح انتہائی درجے گرچکی، گوادر میں شدید آبی بحران کا خدشہ سر اٹھانے لگا


گوادر(قدرت روزنامہ)سوڈ ڈیم جو گوادر کے اہم آبی ذخائر میں سے ایک ہے، اپنی ڈیڈ لیول عبور کر چکا ہے۔ شہریوں کو پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے موٹر ٹربائن کے ذریعے پمپنگ کے ذریعے پانی نکالنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ بات محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ گوادر کے ایکسیئن انجینئر مومن بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیم کے ڈیڈ لیول سے نیچے جانے کے باوجود محکمہ اپنی تمام تر تکنیکی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے پانی نکال رہا ہے تاکہ شہریوں کو درپیش پانی کی قلت پر فوری طور پر قابو پایا جا سکے۔ انجینئر مومن بلوچ نے کہا کہ محکمہ ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہا ہے اور موجودہ ذخائر کو ممکنہ حد تک بروئے کار لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایکسئین انجینئر مومن بلوچ نے شہریوں سرکاری و نجی اداروں، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، کار واش مراکز اور دیگر کمرشل صارفین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ بحرانی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی کا استعمال کم سے کم کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ پانی کا غیر ضروری استعمال ترک کریں نلکے کھلے نہ چھوڑیں، کار واش جیسی سرگرمیوں سے گریز کریں اور ادارہ جاتی سطح پر بھی پانی کے بچاو¿ کے عملی اقدامات کیئے جائیں۔ اگر ہم نے اجتماعی شعور نہ دکھایا تو آنے والے دنوں میں صورت حال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ گوادر میں گزشتہ کئی ماہ سے بارشوں کی کمی، بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی کھپت میں اضافے کے باعث پانی کی قلت ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری متبادل ذرائع تلاش نہ کیئے گئے تو شہر کو شدید آبی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طویل المدتی منصوبہ بندی کرے، نئے ڈیموں اور واٹر سپلائی اسکیموں پر فوری عمل درآمد شروع کرے اور موجودہ صورتحال کو قومی سطح پر ترجیح دے۔

WhatsApp
Get Alert