بجٹ میں بلوچستان کی جامعات کیلئے کوئی اہم منصوبہ نہیں، تنخواہ اور پنشن میں اضافہ ناکافی ہے، فپواسا


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان و فپواسا بلوچستان چیپٹر کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، فپواسا کے مرکزی وائے ایس اے کے جنرل سیکرٹری فریدخان اچکزئی، نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، جوائنٹ سیکرٹری زہرا ملغانی، فنانس سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ باز محمد کاکڑ، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی ایگزیکٹو ممبران ارباب رضا کاسی، فرحانہ عمر مگسی، ڈاکٹر محب اللہ کاکڑ، ڈاکٹر گل محمد بلوچ اور پروفیسر مسعود مندوخیل نے وفاقی حکومت کی جانب سے 2025-26 کےلئے پیش کردہ بجٹ کو سرکاری ملازمین خاص کر ملک بھر کی سرکاری جامعات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کےلئے مختص رقم کو انتہائی ناکافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے 2018ءسے ملک بھر کی سرکاری جامعات اور ایچ ای سی کے لئے سالانہ 65 ارب روپے مختص کرتی آرہی ہے جبکہ اس بار تو ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے ترقیاتی بجٹ کو کم کرکے صرف 39 ارب روپے مختص کئے اس مختص رقم میں بلوچستان کی تمام یونیورسٹیوں کے لئے کوئی اہم منصوبہ نہیں۔ بیان میں واضح کیا کہ حقیقت میں 2018ءسے لیکر اب تک یونیورسٹیوں اور اساتذہ کرام سمیت ایمپللائز کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی ھوشربا اضافہ ہوا۔ بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے لئے صرف 10 فیصد اور پنشنز میں 7 فیصد اضافہ کو انتہائی ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ بیان میں وفاقی مخلوط حکومت میں شامل پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان عوامی پارٹی اپنے انتخابی منشور و وعدے کے مطابق اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں 50 فیصد اور ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور ایچ ای سی کے لئے کم ازکم 200 ارب روپے مختص کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور آفیسران کو عید قربان پر تنخواہوں اور پنشنز سے محروم رکھا گیا اب عیدالاضحٰی گزرنے کے بعد فوری طور پر مئی کے مہینے کی تنخواہ اور پینشنز کی ادائیگی کی جائے اور صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ آنے والے سالانہ بجٹ میں صوبے کی یونیورسٹیوں کے لئے کم ازکم 15 ارب مختص کرکے صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے ماہانہ تنخواہوں اور پنشنز کو انکی ماہانہ تنخواہوں اور پنشنز کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ادائیگی کی جائے۔بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر صوبائی حکومت نے یونیورسٹیوں کے منظور شدہ الاونسز کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا اور تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگی کا مستقل حل نہیں نکالا تو اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز جامعات بلوچستان فپواسا و گرینڈ الائنس کی پلیٹ فارم سے کلاسز بائیکاٹ اور قلم چھوڑ ہڑتال شروع کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert