PKMAP نے قومی اور صوبائی قیادت میں اہم عہدوں پر خواتین کی تقرری کرکے تاریخ رقم کردی

کوئٹہ (تحریر: عزیز اللہ کاکڑ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے قومی اور صوبائی دونوں سطحوں پر اپنی تنظیم کے اندر اہم عہدوں پر خواتین کو تعینات کرکے ایک تاریخ رقم کی ہے. ویسے تو پاکستان کی بہت سی دوسری سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اپنے تنظیمی ڈھانچے (Organizational Structure) کے اندر الگ الگ ونگز (Wings) جیسے خواتین ونگز، یوتھ ونگز، لیبر ونگ یا میڈیا ونگز بنا رکھے ہیں جو حقارت، توہین یا ڈائرکٹ ڈسکریمنیشن (Direct Discrimination) ہے. صنف کی بنیاد پر درجہ بندی (Hierarchy) ہی غیرانسانی اور غیرسیاسی عمل ہے جبکہ اس کے برعکس، خواتین کو قائدانہ کرداروں میں باقاعدہ ضم کرنے کا پشتونخوا میپ کا فیصلہ صنفی برابری/مساوات (Gender Equality) کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور روایتی صنفی تعصبات (Biases) کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ انقلابی اور ترقی پسند سوچ و اپروچ درحقیقت مارکسسٹ-لیننسٹ تنظیمی ڈھانچے کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے جو طبقاتی مساوات پر زور دیتے ہیں اور سماجی درجہ بندیوں پر کھلا تنقید کرتے ہیں۔ پارٹی کے اندر صنفی بنیاد پر رکاوٹوں کو ختم کرکے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پشتون خواتین کی قومی سیاست میں شرکت و شمولیت کو فروغ دینے کی خاطر سچی بنیادیں فراہم کرتی ہے. پشتونخوا وطن اور برصغیر پاک و ہند کے ناقابل فراموش ہیرو کاکاجی صنوبر حسین مومند نے بہت پہلے بجا فرمایا تھا کہ “مجھے پشتون اس لیے پسند ہے کہ پشتون پیدائشی طور پر سوشلسٹ ہے اور وہ ہر کام اشتراک سے کرتا ہے.”
