لاہور؛66ہزار بل آنے پر ڈیڑھ ماہ سے شہری اہلخانہ سمیت بغیر بجلی زندگی گزارنے پر مجبور ،ماں جی کی دل خراش گفتگو

لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور کے علاقے مصری شاہ میں ایک ماہ کا 66ہزار روپے بل آنے پر ڈیڑھ ماہ سے شہری اہلخانہ سمیت بغیر بجلی گزارہ کرنے پر مجبور ہے ۔
سوشل میڈیاپر وائرل ویڈیو میں اس شدید گرمی میں بغیر بجلی گزارہ کرنے والی ماں جی نے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میرا تو دل کرتا ہے کہ رات کو میری جان نکل جائے،مگر میرے بیٹے کے پاس تو کفن کے پیسے بھی نہیں ہیں،ایک ہی میرا بیٹا ہے،آپ کی مہربانی ہے کچھ کرو۔
ماں جی کے بیٹے کاکہناتھا کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں،کام کروں یا اپنے بچوں کو ہاتھ کے پنکھےسے ہوا دوں،یار میری پوزیشن دیکھ لیں،میرے تو حالات مرنے والے ہوگئے ہیں ،خدا کی قسم میں نے صبح سے ناشتہ نہیں کیا، میرے گھر میں کیاہے، میں کیا پکاؤں کیا لے کر آؤں۔
ماں جی کاکہناتھا کہ ہم میں سے کسی نے صبح کا کچھ نہیں کھایا، اب یہ ٹائم آ گیا ہے،رپورٹر کاکہنا تھا اب شام کے 6بجنے لگے ہیں،ماں جی نے روتے ہوئے کہاکہ ہاں جی!کیا کریں۔
ماں جی کے بیٹے کاکہناتھا کہ میری بھی بچیاں جوان ہیں،میں ان کا کروں، بڑوں کو دوں،کھانا پکاؤں،آپریٹ کراؤں ،میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے،میں تو 2ہزار،25سو روپے لے کر آتا ہوں وہ بچوں کو کھلادیتا ہوں،پانچ سو، ہزار کی دوائی آ جاتی ہے،میری والدہ بوڑھی ہیں، جیسے میری نانی ہیں ویسی میری والدہ ہیں۔
رپورٹر کاکہناتھا کہ اگر آپ لوگوں کو میراپسینہ نظر آ رہا ہو،میں حیران ہوں یہ لوگ کتنے عرصے سے ایسے رہ رہے ہیں ، ماں جی کے بیٹے کاکہناتھا کہ ڈیڑھ ،2ماہ سے ہم بجلی کے بغیر ایسے رہ رہے ہیں،رپورٹر نے سوال کیا کہ ماں جی پنکھے کے بغیر نیند آ جاتی ہے،ماں جی کاکہناتھا کہ اتنی گرمی میں پنکھے کے بغیرکیسے نیند آسکتی ہے، مگر ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے،ہاتھ والے پنکھے سے ہوا دے کر گزارہ کررہے ہیں۔
ماں جی کے بیٹے کاکہناتھا کہ جب کبھی بارش ہو جاتی ہے تو ہم لوگ باہر بیٹھ جاتے ہیں،ورنہ ہم تو مر جائیں گے ۔
ماں جی کاکہناتھا کہ کبھی گلی میں بیٹھ جاتے ہیں گزارہ ہی کرنا ہے،مجھے اتنی شرم آئی ابھی میں باہر بیٹھی تھی پھر اندرآ کر بیٹھ گئی،کوئی نہیں اللہ وارث ہے،جس نے پیدا کیا ہے وہ دیکھ رہا ہے۔
ماں جی کے بیٹے کاکہناتھا کہ یہ دیکھیں اب کتنا بڑا بل ہے،66ہزار روپے،میں ہزار،1500کماتا ہوں،66ہزار روپے میں کہاں سے لے کر آؤں،لوگ ایسے ایسے کر رہے ہیں، روٹیاں پکا رہے ہیں ہم دیکھ رہے ہیں،ابھی میں جاؤں گا رات کو 9بجے کھانا پکے گا، پھر بچے کھائیں گے،پھر میں اپنی بچی کی روزانہ 500روپے کی دوائی لے کر آتا ہوں،آپریٹ کراؤں کہ دوائی کھلاؤں،ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں وہ ٹائم دے دیتے ہیں۔
ماں جی کے بیٹے کا کہناتھا کہ آپ دس منٹ میرے پاس کھڑے ہیں آپ کا کیا حال ہوگیا ہے،چھوٹا سا میرا گھر ہے شکر ہے اللہ کا میرا اپنا گھر ہے،اگر یہ بھی کرائے پر ہوتا میں تو مر گیا تھا،میں کرایہ نہیں دے سکتا، ابھی تین ماہ بعد میں نے باجی کی شادی کرنی ہے،میرے پاس پیسے نہیں ہیں،لڑکے والے بول رہے ہیں کہ دسویں مہینے شادی دو ہمیں،ہم ان کے آگے ہاتھ جوڑ رہے ہیں کہ ابھی ٹھہر جاؤ ،وہ کہہ رہے ہیں کہ کرنا ہے تو کرو ورنہ چھوڑ دو۔
رپورٹر کاکہناتھا کہ اگر اس گھر کا 66000روپے بل آ رہا ہے میرے تو ہاتھ کھڑے ہیں،میری سمجھ سے باہر ہے اس گھر کا اتنا بل،میں حکومت پنجاب ،وفاقی حکومت ،اپوزیشن اور مخیرحضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ ان کے گھر آئیں۔
شکیل کاکہنا تھا کہ میرا بھائی راجو کا بجلی کا بل 2لاکھ روپے آیا ہے جس پر رپورٹر نے حیرت کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگ کیا چلا رہے ہیں۔
راجو نے کہاکہ میرا ایک لاکھ 10ہزار روپے بل آیا ہے،جبکہ بجلی 400روپے کی جلی ہے،واپڈا نے ٹیکس اتنا ڈالا ہے،میرا گھر اس سے بھی چھوٹا ہے،میرے تین بچے ہیں۔
