ای ویزا: برطانیہ کا ویزا نظام ڈیجیٹل ہوگیا، پاکستانی طلبا اور ہنرمندوں کو کیا فائدہ ہوگا؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)برطانیہ نے پاکستانی طلباء اور محنت کشوں کے لیے ویزا کے عمل کو جدید بنانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے آج سے ڈیجیٹل ویزا سسٹم (eVisa) کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اب تعلیم یا کام کے سلسلے میں برطانیہ جانے والوں کو اپنے پاسپورٹ پر روایتی فزیکل ویزا اسٹیکر لگوانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
برطانوی حکومت کے مطابق، eVisa ایک ڈیجیٹل امیگریشن اسٹیٹس ہے جو کسی فرد کی امیگریشن حیثیت اور برطانیہ میں قیام کی شرائط کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ آن لائن سسٹم UK Visas and Immigration (UKVI) کے اکاؤنٹ کے ذریعے قابل رسائی ہو گا۔
پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ: ’یہ اقدام طلبہ اور محنت کشوں کے لیے اپنی شناخت اور ویزا اسٹیٹس کو ثابت کرنے کے عمل کو نہایت آسان، محفوظ اور تیز تر بنائے گا۔‘
کن افراد کے لیے eVisa لاگو ہو گا؟
برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ابتدائی طور پر درج ذیل کیٹیگریز کے لیے eVisa سسٹم متعارف کروایا گیا ہے:
طلباء (بشمول 11 ماہ کے قلیل مدتی مطالعے کے کورسز)
گلوبل بزنس موبیلیٹی کیٹیگریز
گلوبل ٹیلنٹ
انٹرنیشنل اسپورٹس پرسن
اسکلڈ ورکرز (بشمول ہیلتھ اینڈ کیئر ورکرز)
عارضی ورک ویزے (مثلاً: چیریٹی ورکر، کریئیٹو ورکر، مذہبی کام وغیرہ)
یوتھ موبیلیٹی اسکیم
eVisa کے فوائد
eVisa ہولڈرز اپنا سفری دستاویز (پاسپورٹ) UKVI اکاؤنٹ سے منسلک کر کے باآسانی سفر کر سکیں گے۔ مزید برآں، وہ اپنی امیگریشن حیثیت کو “View and Prove” سروس کے ذریعے محفوظ طریقے سے آجر یا دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر بھی کر سکیں گے۔
اب فزیکل ویزا کن لوگوں کے لیے باقی رہے گا؟
ایسے درخواست گزار جو بطور ڈیپینڈنٹ (یعنی انحصار کرنے والے) یا کام و تعلیم کے علاوہ کسی اور ویزے (جیسے وزیٹر ویزا) کے لیے درخواست دیں گے، ان کے لیے ابھی بھی فزیکل ویزا اسٹیکر جاری کیا جائے گا۔
اسی طرح، جن افراد کے پاس پہلے سے جاری شدہ فزیکل ویزا موجود ہے، وہ تاحال قابل قبول رہے گا اور انہیں کسی نئی کارروائی کی ضرورت نہیں ہو گی۔
آگے کیا ہوگا؟
برطانوی حکومت کا ارادہ ہے کہ مستقبل میں اس ڈیجیٹل ویزا سسٹم کو تمام ویزا کیٹیگریز تک وسعت دی جائے، تاکہ ویزا کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔
